سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب دية الجنين
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ) کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ:" أَنّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، زَادَ هَارُونُ: فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرْبَ الرَّجُلِ بَطْنَ امْرَأَتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلَاصًا لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلَادَةِ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4570]
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ کیا کہ اگر کسی عورت کے پیٹ کا بچہ ساقط کر دیا گیا ہو (تو اس میں کیا دیت ہو؟) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تھا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کوئی گواہ لائیے جو آپ کی تائید میں گواہی دے۔“ چنانچہ وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے آئے۔ ہارون نے مزید کہا: ”چنانچہ انہوں نے گواہی دی یعنی اگر کوئی پیٹ والی عورت کو صدمہ پہنچائے (تو اس کی دیت یہی ہے)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبید سے مروی ہے کہ اسقاط کو «إِمْلَاصٌ» اس لیے کہتے ہیں کہ عورت بچے کو قبل از وقت پھسلا دیتی ہے، اور ہر وہ چیز جو ہاتھ وغیرہ سے پھسل جائے اسے «مَلَصَ» کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ القسامة 2 (1689)، سنن ابن ماجہ/ الدیات 11 (2640)، (تحفة الأشراف: 11233، 11529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253) (صحیح)» (ہارون کی زیادتی صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون زيادة هارون ق
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1683)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4570
| قضى فيها بغرة عبد أو أمة |
Sunan Abi Dawud Hadith 4570 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← المسور بن مخرمة القرشي