🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في الخلفاء
باب: خلفاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4649
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ رَجُلٌ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ، وَهُوَ يَقُولُ:" عَشْرَةٌ فِي الْجَنَّةِ: النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ، فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شِئْتَ لَسَمَّيْتُ الْعَاشِرَ، قَالَ: فَقَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَسَكَتَ، قَالَ: فَقَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَقَالَ: هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ".
عبدالرحمٰن بن اخنس سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں تھے، ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کا (برائی کے ساتھ) تذکرہ کیا، تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا: دس لوگ جنتی ہیں: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر بن عوام جنتی ہیں، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں اور اگر میں چاہتا تو دسویں کا نام لیتا، وہ کہتے ہیں: لوگوں نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ تو وہ خاموش رہے، لوگوں نے پھر پوچھا: وہ کون ہیں؟ تو کہا: وہ سعید بن زید ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4459) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (3757 وسنده صحيح) وله شاھد انظر الحديث الآتي (4650)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن زيد القرشي، أبو الأعورصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن الأخنس الكوفي
Newعبد الرحمن بن الأخنس الكوفي ← سعيد بن زيد القرشي
مقبول
👤←👥الحر بن الصياح الكوفي
Newالحر بن الصياح الكوفي ← عبد الرحمن بن الأخنس الكوفي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحر بن الصياح الكوفي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر
Newحفص بن عمر الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3748
عشرة في الجنة أبو بكر في الجنة عمر في الجنة عثمان في الجنة علي في الجنة الزبير في الجنة طلحة في الجنة ابن عوف في الجنة سعيد في الجنة أبو عبيدة بن الجراح في الجنة
سنن أبي داود
4649
عشرة في الجنة النبي في الجنة أبو بكر الجنة عمر في الجنة عثمان في الجنة علي في الجنة طلحة في الجنة الزبير بن العوام في الجنة سعد بن مالك في الجنة عبد الرحمن بن عوف في الجنة لو شئت لسميت العاشر قال فقالوا من هو
سنن ابن ماجه
133
أبو بكر في الجنة عمر في الجنة عثمان في الجنة علي في الجنة طلحة في الجنة الزبير في الجنة سعد في الجنة عبد الرحمن في الجنة من التاسع قال أنا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4649 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4649
فوائد ومسائل:
ان روایات کے علاوہ بھی اس مضمون میں بیت سی روایات کتب سنت میں موجود ہیں جبکہ کتاب اللہ میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی مدح وستائش بصراحت آئی ہےمثلا: (وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) (التوبه:100) وہ مہاجرین وانصار جنہوں نے (سب سے پہلے ایمان لانے میں) سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن انداز میں ان کا اتباع کیا اللہ ان (سب) سے راضی ہوا اور وہ اس (اللہ) سے راضی ہوئے۔
اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ بیت بڑی کامیابی ہے۔
اور (لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (88) أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) (التوبه:٨٩-٨٨) ليكن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو اس کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ذریعے سے جہاد کیا انہی لوگوں کے لیے ساری بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اور سورۃالفتح میں ہے: (لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا) (الفتح:١٨) تحقیق اللہ راضی ہوگیا مومنوں سے جب کہ وہ آپ سے اس درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے پس اس نے اس (خلوص) کو جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا اس نے ان پر اطمینان نازل کیا اور بدلے میں انہیں جلد ہی فتح دیدی۔
بعد کے دور میں صحابہ کے مابین جو چپقلش ہوئی ہے وہ بشری تقاضون کے تحت ان کے اجتہادات کی بناء پر ہوئی۔
اللہ تعالی انہیں معاف کرنے والا ہے۔
اہل السنہ والجماعۃ قطعاً جائز نہیں سمجھتے کہ ان امور کو سرعام موضوع بحث بنایا جائے۔
رضي الله عنهم و أرضاهم۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4649]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث133
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 133]
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث میں نو افراد کے جنتی ہونے کی خبر ہے۔
ان کے ساتھ دسویں صحابی حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔
ان دس حضرات کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے۔
یعنی وہ دس صحابہ کرام جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوش خبری دی ہے۔
یہ دس حضرات تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں۔
بعض دیگر مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دیگر افراد کو بھی جنت کی بشارت دی ہے، لیکن ان حضرات کا مقام عشرہ مبشرہ کے برابر نہیں۔

(2)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے تواضع کے طور پر اپنا نام نہیں لیا۔
جب پوچھا گیا تب بتانا پڑا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 133]