سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب ما يدل على ترك الكلام في الفتنة
باب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4663
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ" مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ، إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4663]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لوگوں میں کوئی ایسا نہیں کہ اسے کوئی فتنہ درپیش ہو (اور وہ اس سے محفوظ رہے) مجھے اندیشہ رہتا ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہو جائے گا، سوائے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم (انہیں) فرما رہے تھے: ”تجھے فتنہ نقصان نہیں دے گا۔“” [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3381) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ھشام بن حسان مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
إسناده ضعيف
ھشام بن حسان مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← حذيفة بن اليمان العبسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة متقن | |
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد الحسن بن علي الهذلي ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة حافظ له تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4663
| لا تضرك الفتنة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4663 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4663
فوائد ومسائل:
اس کی واحد وجہ اللہ تعالی کے خاص فضل کے بعدان کا فتنوں سے الگ تھلگ رہ کر تنہائی اختیار کرلینا تھا، جیسے کہ درج ذیل روایت میں آرہا ہے، لیکن اس کا یہ مفہوم بھی نہیں کہ انسان لوگوں پر موثر ہو سکتا ہو اس کی بات سنی جاتی ہو تو وہ خاموش تماشائی بنا رہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام نہ دے بلکہ یہ اس صورت میں ہے، جب آدمی کوئی اہم کردارادا کرنے کی حالت میں نہ ہو تو اس وقت الگ تھلگ رہنے ہی میں عافیت ہوتی ہے۔
اس کی واحد وجہ اللہ تعالی کے خاص فضل کے بعدان کا فتنوں سے الگ تھلگ رہ کر تنہائی اختیار کرلینا تھا، جیسے کہ درج ذیل روایت میں آرہا ہے، لیکن اس کا یہ مفہوم بھی نہیں کہ انسان لوگوں پر موثر ہو سکتا ہو اس کی بات سنی جاتی ہو تو وہ خاموش تماشائی بنا رہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام نہ دے بلکہ یہ اس صورت میں ہے، جب آدمی کوئی اہم کردارادا کرنے کی حالت میں نہ ہو تو اس وقت الگ تھلگ رہنے ہی میں عافیت ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4663]
Sunan Abi Dawud Hadith 4663 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← حذيفة بن اليمان العبسي