🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب في الرد على الجهمية
باب: جہمیہ کے رد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4732
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ: أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ، أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ , قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: بِيَدِهِ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ، أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں اترانے والے؟۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4732]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹ لے گا اور انہیں اپنے داہنے ہاتھ میں لے گا اور کہے گا: «أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟» میں ہی بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں جابر؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹ لے گا اور انہیں پکڑے گا۔ ابن العلاء نے کہا: انہیں دوسرے ہاتھ میں پکڑے گا اور فرمائے گا: «أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟» میں ہی بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں جابر؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التوحید 19 (7414تعلیقًا)، صحیح مسلم/صفة القیامة (2788)، (تحفة الأشراف: 6774)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة 14 (198) (صحیح)» ‏‏‏‏ ( «شمال» (بایاں ہاتھ) کے ذکر میں عمر بن حمزة متفرد ہیں، جبکہ صحیح احادیث میں رب کے دونوں ہاتھ کو دایاں ہاتھ کہا گیا ہے، ملاحظہ ہو: الصحيحة 3136 تراجع الألباني 124)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2778)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عمر بن حمزة العدوي
Newعمر بن حمزة العدوي ← سالم بن عبد الله العدوي
ضعيف الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عمر بن حمزة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7052
يأخذ الله سماواته وأرضيه بيديه فيقول أنا الله ويقبض أصابعه ويبسطها أنا الملك حتى نظرت إلى المنبر يتحرك من أسفل شيء منه حتى إني لأقول أساقط هو برسول الله
صحيح مسلم
7051
يطوي الله السماوات يوم القيامة ثم يأخذهن بيده اليمنى ثم يقول أنا الملك أين الجبارون أين المتكبرون ثم يطوي الأرضين بشماله ثم يقول أنا الملك أين الجبارون أين المتكبرون
سنن أبي داود
4732
يطوي الله السماوات يوم القيامة ثم يأخذهن بيده اليمنى ثم يقول أنا الملك أين الجبارون أين المتكبرون ثم يطوي الأرضين ثم يأخذهن قال ابن العلاء بيده الأخرى ثم يقول أنا الملك أين الجبارون أين المتكبرون
سنن ابن ماجه
4275
يأخذ الجبار سماواته وأرضيه بيده وقبض يده فجعل يقبضها ويبسطها ثم يقول أنا الجبار أنا الملك أين الجبارون أين المتكبرون قال ويتمايل رسول الله عن يمينه وعن شماله حتى نظرت إلى المنبر يتحرك من أسفل شيء منه حتى إني لأقول أساقط هو برسول الله صل
سنن ابن ماجه
198
أنا الجبار أين الجبارون أين المتكبرون
سلسلہ احادیث صحیحہ
1
عن يمينه وعن شماله] حتى نظرت إلى المنبر يتحرك من اسفل شيء منه، حتى إني لاقول: اساقط هو برسول الله - صلى الله عليه وسلم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4732 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4732
فوائد ومسائل:
1: اللہ عزوجل کی صفات میں وارد الفاظ واضح اور صریح ہیں، ہم انہیں اپنے رب تعالی کے حق میں بلا جھجک استعمال کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں، لیکن ان کی حقیقت کا ہمیں کوئی ادراک نہیں کیونکہ (لَیسَ کمثلهِ شيءٌ وھو السمیعُ البصیرُ) (الشوری)
2:اللہ کے دو ہاتھ ہیں اور دونوں ہی داہنے ہیں اور اللہ تعالی کلام کرنے سے موصوف ہے۔

3: حقیقی بادشاہ تو اب بھی اللہ عزوجل ہی ہے، مگر دنیا میں نام کے بادشاہ موجود ہیں اور ان میں جبار اور متکبر بھی ہیں، لیکن محشر میں کسی کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور بادشاہت صرف ایک اکیلے اللہ کی ہوگی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4732]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث198
جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: «جبار» (اللہ تعالیٰ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے باربار بند کرنے اور کھولنے لگے) اور فرمائے گا: میں «جبار» ہوں، کہاں ہیں «جبار» اور کہاں ہیں تکبر (گھمنڈ) کرنے والے؟، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 198]
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا ثبوت ملتا ہے۔
ہاتھ سے مراد قدرت لینا باطل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کر کے بات کو واضح فرما دیا ہے، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو ذرہ بھر تعجب نہ ہوا، ورنہ خلاف عقل بات سمجھ کر ضرور سوال کرتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کو من و عن تسلیم کرتے تھے۔
كَمَا يَلِيقُ بِجَلَالِه. اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا پتہ چلتا ہے کہ اتنی عظیم اور وسیع مخلوق اللہ تعالیٰ کے لیے ایک معمولی ذرے کی طرح ہے۔

(3)
وعظ میں مناسب موقع پر جوش یا غضب کا اظہار جائز ہے۔

(4)
تکبر(بڑائی کا اظہار)
بہت بڑی خصلت ہے جو انسان جیسی ضعیف اور حقیر مخلوق کے لائق نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور شان ہی اس لائق ہے کہ وہ تکبر یعنی بڑائی اور عظمت کے اظہار کی صفت سے متصف ہ۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 198]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4275
حشر کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: جبار (اللہ) آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، (آپ نے مٹھی بند کی پھر اس کو بند کرنے اور کھولنے لگے) پھر فرمائے گا: میں جبار ہوں، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دوسرے جبار؟ کہاں ہیں دوسرے متکبر؟ یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھک رہے تھے، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ منبر کچھ نیچے سے ہل رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4275]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ہاتھ ا س کی صفت ہے۔
جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔
اس کی تاویل کرنا بھی درست نہیں اور انسانی ہاتھ سے تشبیہ دینا بھی درست نہیں۔

(2)
اللہ کا کلام کرنا بھی اس کی صفت ہے اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کلام فرماتا ہے۔
اور جس مخلوق سے کلام فرماتا ہے۔
انھیں آواز سنائی دیتی ہے۔
جیسے فرشتوں سے کلام فرماتا ہے۔
یا موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا ہے۔
یاقیامت کے دن بندوں سے کلام فرمائے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4275]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7052
عبید اللہ بن مقسم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھا وہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:"اللہ عزوجل اپنےآسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑے گا اور فرمائےگا۔میں ہوں، اللہ اور اپنی انگلیوں کو سمیٹے گا اور انہیں پھیلائے گا، میں ہوں بادشاہ۔"حتی کہ میں منبر کو دیکھا وہ نیچے تک سے حرکت کر رہا تھا حتی کہ میں دل میں کہہ رہا تھا، کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7052]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انگلیوں کے قبض وبسط کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ سے ہے تو پھر اس کی کیفیت وحقیقت کوجانناممکن نہیں ہے اور اگر اس کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے تو پھر آپ نے آسمانوں اور زمینوں کے پھیلاؤاور سمیٹنے کی طرف اشارہ کیا کہ یہ اس طرح سمیٹ لیے جائیں گے،
اللہ کے قبض و بسط کی کیفیت بیان کرنا مقصود نہیں ہے،
کیونکہ اس کی کسی صفت کو تشبیہ دینا درست نہیں ہے،
وہ تو ليس كمثله شئی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7052]

Sunan Abi Dawud Hadith 4732 in Urdu