یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب في قتال اللصوص
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4765
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَمُبَشِّرٌ يَعْنِيَ ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي الْوَلِيدَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ:" التَّحْلِيقُ".
ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ (اپنی روش سے) باز نہیں آئیں گے جب تک تیر سوفار (اپنی ابتدائی جگہ) پر الٹا نہ آ جائے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا جسے وہ قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈانا“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4765]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں اختلاف و افتراق آ جائے گا۔ ایک قوم باتیں بہت اچھی اچھی کرے گی مگر کام ان کے بہت برے ہوں گے۔ قرآن پڑھتے ہوں گے مگر وہ ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے ہدف (شکار) سے نکل جاتا ہے۔ ان کا حق کی طرف لوٹنا ایسے ہی محال ہو گا جیسے تیر کا اپنی کمان پر واپس آنا۔ وہ انسانوں میں اور مخلوقات میں سب سے برے ہوں گے۔ مبارک ہو ایسے شخص کو جو انہیں قتل کرے اور وہ اسے قتل کریں (شہادت پا جائیں)۔ وہ بظاہر اللہ کی کتاب کی طرف بلائیں گے مگر ان کا کوئی تعلق اس کتاب سے نہیں ہو گا۔ جو ان سے قتال کرے گا وہ ان کی نسبت اللہ تعالیٰ سے بہت قریب ہو گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ان کی علامت کیا ہو گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈانا۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ ومابعدہ، (تحفة الأشراف: 1312) (صحیح)» (قتادة کا ابوسعید خدری سے سماع نہیں ہے، ہاں، انس سے ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4765
| يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4765 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4765
فوائد ومسائل:
1: ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قراد دیا ہے، جبکہ دیگر محققین اس کو صحیح قراردیتے ہیں اور انہی کی رائے اقرب الی الصوب محسوس ہوتی ہے۔
2: انسان کے قول و فعل میں تضاد ہونا ایسی قبیح بات ہے جو اللہ عزوجل کے انتہائی غضب اور اس کی ناراضی کا باعث ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
(كبر مقتًا عندَالله أن تقولوا مالا تفعلون)(الصف:٣) الله عزوجل كے نزديک انتہائی ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔
3: دین کی من مانی تعبیر، فسق وفجور اور بدعات اور ان میں غلو کی نحوست یہ ہے کہ انسان توبہ اور حق کی طرف لوٹنے کی توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
4: دین کی وہی تعبیر ومعتبر ہے جو جمہور صحابہ کرام رضی اللہ نے رسول اللہ ؐسے نقل کی۔
5: خلیفہ المسلمین کا فرض ہے کہ دین اور مسلمانوں میں فتنہ اور انتشار پیدا کرنے والوں کا قلع قلع کرے اور ان سے قتال کرنے والے یا اس میں شہید ہو جانے والے لوگ افضل لو گ ہوتے ہیں۔
6: سر کے بال بڑھا کر رکھنا منڈانے کی نسبت زیادہ افضل ہے تاکہ ایسے لوگوں سے مشا بہت نہ رہے۔
ویسے منڈانا بھی جائز ہے، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ کا معمول تھا، البتہ خوارج اس کا التزام کرتے تھے اور یہ ان کی پہچان بن گئی تھی۔
1: ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قراد دیا ہے، جبکہ دیگر محققین اس کو صحیح قراردیتے ہیں اور انہی کی رائے اقرب الی الصوب محسوس ہوتی ہے۔
2: انسان کے قول و فعل میں تضاد ہونا ایسی قبیح بات ہے جو اللہ عزوجل کے انتہائی غضب اور اس کی ناراضی کا باعث ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
(كبر مقتًا عندَالله أن تقولوا مالا تفعلون)(الصف:٣) الله عزوجل كے نزديک انتہائی ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔
3: دین کی من مانی تعبیر، فسق وفجور اور بدعات اور ان میں غلو کی نحوست یہ ہے کہ انسان توبہ اور حق کی طرف لوٹنے کی توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
4: دین کی وہی تعبیر ومعتبر ہے جو جمہور صحابہ کرام رضی اللہ نے رسول اللہ ؐسے نقل کی۔
5: خلیفہ المسلمین کا فرض ہے کہ دین اور مسلمانوں میں فتنہ اور انتشار پیدا کرنے والوں کا قلع قلع کرے اور ان سے قتال کرنے والے یا اس میں شہید ہو جانے والے لوگ افضل لو گ ہوتے ہیں۔
6: سر کے بال بڑھا کر رکھنا منڈانے کی نسبت زیادہ افضل ہے تاکہ ایسے لوگوں سے مشا بہت نہ رہے۔
ویسے منڈانا بھی جائز ہے، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ کا معمول تھا، البتہ خوارج اس کا التزام کرتے تھے اور یہ ان کی پہچان بن گئی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4765]
Sunan Abi Dawud Hadith 4765 in Urdu
أبو سعيد الخدري ← أنس بن مالك الأنصاري