سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب فِي الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ
باب: راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4815
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ، قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں (ضروری امور پر) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو“ لوگوں نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4815]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستوں پر بیٹھنے سے احتراز کرو۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں تو اس سے چارہ نہیں ہے، ہم نے آپس میں بات چیت کرنی ہوتی ہے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس سے انکار کرتے ہو تو پھر راستے کے حق کا خیال رکھو۔“ انہوں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! راستے کا کیا حق ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، بھلی بات کہنا اور برائی سے روکنا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 22 (2465)، الاستئذان 2 (6229)، صحیح مسلم/اللباس 32 (2121)، (تحفة الأشراف: 4164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/36، 47) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2465) صحيح مسلم (2121)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4815
| غض البصر كف الأذى رد السلام الأمر بالمعروف النهي عن المنكر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4815 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4815
فوائد ومسائل:
راستوں اور چوکوں پر بلاوجہ معقول دھرنا مار کر بیٹھےرہنا شریفاء کا کام نہیں۔
ضرورت اور مجبوری کی کیفیت الگ چیز ہے۔
اس سے پردہ دار خواتین کو بالخصوص اذیت ہوتی ہے۔
اصحابِ مجلس اگر دین و تقوٰی سے موصوف نہ ہوں تو راہ گزرنے والوں پر بے جا تبصرے بھی ہوتے ہیں جو مسلمانوں کو کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا۔
اور اگر کوئی بطور مہمان آیا ہو تو اس کے ساتھ سرِراہ ہی مجلس لگا لینا اس کا اکرام نہیں ہے۔
بہر حال سرِ راہ بیٹھنے کی صورت میں مندرجہ بالا شرعی ہدایات کا پاس رکھنا لازم ہے۔
راستوں اور چوکوں پر بلاوجہ معقول دھرنا مار کر بیٹھےرہنا شریفاء کا کام نہیں۔
ضرورت اور مجبوری کی کیفیت الگ چیز ہے۔
اس سے پردہ دار خواتین کو بالخصوص اذیت ہوتی ہے۔
اصحابِ مجلس اگر دین و تقوٰی سے موصوف نہ ہوں تو راہ گزرنے والوں پر بے جا تبصرے بھی ہوتے ہیں جو مسلمانوں کو کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا۔
اور اگر کوئی بطور مہمان آیا ہو تو اس کے ساتھ سرِراہ ہی مجلس لگا لینا اس کا اکرام نہیں ہے۔
بہر حال سرِ راہ بیٹھنے کی صورت میں مندرجہ بالا شرعی ہدایات کا پاس رکھنا لازم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4815]
Sunan Abi Dawud Hadith 4815 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري