سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب فِي النَّوْمِ عَلَى طَهَارَةٍ
باب: باوضو سونے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5043
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ" , قال أبو داود: يَعْنِي بَالَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، قضائے حاجت کے لیے گئے۔ پھر اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «قَضَى حَاجَتَهُ» سے مراد ہے ”پیشاب کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 10 (6316)، صحیح مسلم/الحیض 5 (763)، سنن النسائی/التطبیق 63 (1122)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 71 (508)، (تحفة الأشراف: 6352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 283، 284، 343) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6316) صحيح مسلم (763)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى سلمة بن كهيل الحضرمي ← كريب بن أبي مسلم القرشي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سلمة بن كهيل الحضرمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | وله أوهام، ثقة حافظ شهير |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
698
| قام من الليل فقضى حاجته ثم غسل وجهه ويديه ثم نام |
سنن أبي داود |
5043
| قام من الليل فقضى حاجته فغسل وجهه ويديه ثم نام |
سنن ابن ماجه |
508
| قام من الليل فدخل الخلاء فقضى حاجته ثم غسل وجهه وكفيه ثم نام |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5043 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5043
فوائد ومسائل:
باوضو ہوکرسونے کے معنی یہ ہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں وضو کرکے بستر پر جانے کے علاوہ اگر رات کے کسی حصے میں جاگے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جائے تو دوبارہ بھی مسنون وضو کرکے سوئے تو یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔
باوضو ہوکرسونے کے معنی یہ ہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں وضو کرکے بستر پر جانے کے علاوہ اگر رات کے کسی حصے میں جاگے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جائے تو دوبارہ بھی مسنون وضو کرکے سوئے تو یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5043]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث508
سونے کے لیے وضو کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 508]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 508]
اردو حاشہ:
(1)
سوتے وقت باوضو سونا باعث ثواب ہے۔ (صحیح البخاری، الوضوء، باب فضل من بات علی الوضوء، حدیث: 247 وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب مایقول عندالنوم وأخذ المضجع، حدیث: 2710)
لیکن باوضو سونا ضروری نہیں۔
ہاتھ منہ دھونا بھی کافی ہے بلکہ بے وضو سونے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ نہانے کی حاجت ہو۔
جیسے کہ حدیث: 581 تا583 میں ذکر ہوگا۔
(1)
سوتے وقت باوضو سونا باعث ثواب ہے۔ (صحیح البخاری، الوضوء، باب فضل من بات علی الوضوء، حدیث: 247 وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب مایقول عندالنوم وأخذ المضجع، حدیث: 2710)
لیکن باوضو سونا ضروری نہیں۔
ہاتھ منہ دھونا بھی کافی ہے بلکہ بے وضو سونے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ نہانے کی حاجت ہو۔
جیسے کہ حدیث: 581 تا583 میں ذکر ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 508]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 698
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:698]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رات کو انسان اگر بہت جلد بیدار ہو جائے تو دوبارہ سو سکتا ہے جن حضرات نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ دوبارہ سو جانے کی صورت میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رات کے معمولات اور صبح کی نماز سے محروم ہو سکتا ہے اس لیے اس کو نہیں سونا چاہیے اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو پھر سو سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
رات کو انسان اگر بہت جلد بیدار ہو جائے تو دوبارہ سو سکتا ہے جن حضرات نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ دوبارہ سو جانے کی صورت میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رات کے معمولات اور صبح کی نماز سے محروم ہو سکتا ہے اس لیے اس کو نہیں سونا چاہیے اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو پھر سو سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 698]
Sunan Abi Dawud Hadith 5043 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي