پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. باب : وضوء النوم
باب: سونے کے لیے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 508
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ لِزَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ : يَا أَبَا الصَّلْتِ هَلْ سَمِعْتَ فِي هَذَا شَيْئًا؟ فَقَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ نَامَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 508]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر بیت الخلاء تشریف لے گئے اور ضروری حاجت سے فارغ ہوئے۔ پھر چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھ دھوئے اور سو گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات10 (6316)، صحیح مسلم/الحیض 5 (304)، المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الأدب 105 (5043)، سنن الترمذی/الشمائل (258)، سنن النسائی/الکبري الصلاة 43 (397)، (تحفة الأشراف: 6352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 283، 284، 284، 343) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
698
| قام من الليل فقضى حاجته ثم غسل وجهه ويديه ثم نام |
سنن أبي داود |
5043
| قام من الليل فقضى حاجته فغسل وجهه ويديه ثم نام |
سنن ابن ماجه |
508
| قام من الليل فدخل الخلاء فقضى حاجته ثم غسل وجهه وكفيه ثم نام |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 508 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث508
اردو حاشہ:
(1)
سوتے وقت باوضو سونا باعث ثواب ہے۔ (صحیح البخاری، الوضوء، باب فضل من بات علی الوضوء، حدیث: 247 وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب مایقول عندالنوم وأخذ المضجع، حدیث: 2710)
لیکن باوضو سونا ضروری نہیں۔
ہاتھ منہ دھونا بھی کافی ہے بلکہ بے وضو سونے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ نہانے کی حاجت ہو۔
جیسے کہ حدیث: 581 تا583 میں ذکر ہوگا۔
(1)
سوتے وقت باوضو سونا باعث ثواب ہے۔ (صحیح البخاری، الوضوء، باب فضل من بات علی الوضوء، حدیث: 247 وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب مایقول عندالنوم وأخذ المضجع، حدیث: 2710)
لیکن باوضو سونا ضروری نہیں۔
ہاتھ منہ دھونا بھی کافی ہے بلکہ بے وضو سونے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ نہانے کی حاجت ہو۔
جیسے کہ حدیث: 581 تا583 میں ذکر ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 508]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5043
باوضو سونے کی فضیلت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
فوائد ومسائل:
باوضو ہوکرسونے کے معنی یہ ہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں وضو کرکے بستر پر جانے کے علاوہ اگر رات کے کسی حصے میں جاگے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جائے تو دوبارہ بھی مسنون وضو کرکے سوئے تو یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔
باوضو ہوکرسونے کے معنی یہ ہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں وضو کرکے بستر پر جانے کے علاوہ اگر رات کے کسی حصے میں جاگے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جائے تو دوبارہ بھی مسنون وضو کرکے سوئے تو یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5043]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 698
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:698]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رات کو انسان اگر بہت جلد بیدار ہو جائے تو دوبارہ سو سکتا ہے جن حضرات نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ دوبارہ سو جانے کی صورت میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رات کے معمولات اور صبح کی نماز سے محروم ہو سکتا ہے اس لیے اس کو نہیں سونا چاہیے اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو پھر سو سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
رات کو انسان اگر بہت جلد بیدار ہو جائے تو دوبارہ سو سکتا ہے جن حضرات نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ دوبارہ سو جانے کی صورت میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رات کے معمولات اور صبح کی نماز سے محروم ہو سکتا ہے اس لیے اس کو نہیں سونا چاہیے اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو پھر سو سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 698]
حدیث نمبر: 508M
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَنْبَأَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ: فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَحَدَّثَنِي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی جیسی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ذکر کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 508M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 508 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي