🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
120. باب في الرجل ينتمي إلى غير مواليه
باب: غلام اپنے آقا کو چھوڑ کر اپنی نسبت کسی اور سے کرے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5113
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ" , قال: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَاصِمٌ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عُثْمَانَ، لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ أَيُّمَا رَجُلَيْنِ؟ فَقَالَ: أَمَّا أَحَدُهُمَا: فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ فِي الْإِسْلَامِ يَعْنِي سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَالْآخَرُ: قَدِمَ مِنْ الطَّائِفِ فِي بِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ , فَذَكَرَ فَضْلًا، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: حَيْثُ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: وَاللَّهِ إِنَّهُ عِنْدِي أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ , يَعْنِي قَوْلَهُ: حَدَّثَنَا , وَحَدَّثَنِي، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ، يَقُولُ: لَيْسَ لِحَدِيثِ أَهْلِ الْكُوفَةِ نُورٌ، قَالَ: وَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانُوا تَعَلَّمُوهُ مِنْ شُعْبَةَ.
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر، اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے تو جنت اس پر حرام ہے۔ عثمان کہتے ہیں: میں سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا، تو انہوں نے بھی کہا: میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، عاصم کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوعثمان تمہارے پاس دو آدمیوں نے اس بات کی گواہی دی، لیکن یہ دونوں صاحب کون ہیں؟ ان کی صفات و خصوصیات کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں یا اسلام میں سب سے پہلے تیر چلایا یعنی سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور دوسرے وہ ہیں جو طائف سے بیس سے زائد آدمیوں کے ساتھ پیدل چل کر آئے پھر ان کی فضیلت بیان کی۔ نفیلی نے یہ حدیث بیان کی تو کہا: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے لیے شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے، یعنی ان کا «حدثنا وحدثني»  کہنا (مجھے بہت پسند ہے)۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد سے سنا ہے، وہ کہتے تھے: میں نے احمد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل کوفہ کی حدیث میں کوئی نور نہیں ہوتا (کیونکہ وہ اسانید کو صحیح طریقہ پر بیان نہیں کرتے، اور اخبار و تحدیث کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے) اور کہا: میں نے اہل بصرہ جیسے اچھے لوگ بھی نہیں دیکھے انہوں نے شعبہ سے حدیث حاصل کی (اور شعبہ کا طریقہ اسناد کو اچھی طرح بتا دینے کا تھا)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5113]
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے آپ کو کسی اور کا بیٹا بتایا جبکہ وہ جانتا ہو کہ یہ (دوسرا) اس کا باپ نہیں ہے، تو جنت اس پر حرام ہے۔ ابوعثمان نہدی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا، تو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے (تصدیق کرتے ہوئے) کہا: اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ہے۔ عاصم (احول) نے بیان کیا: میں نے (اپنے شیخ) ابوعثمان سے کہا کہ: آپ کے سامنے دو آدمیوں نے گواہی دی ہے، وہ کیسے آدمی ہیں؟ انہوں نے کہا: ان میں سے ایک تو وہ ہے جس نے اللہ کی راہ، یا کہا، اسلام میں سب سے پہلے تیر مارا، یعنی سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ۔ اور دوسرا (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہے جو طائف سے پیدل چل کر آیا تھا اور ان لوگوں کی تعداد بیس سے زیادہ تھی اور ان کی فضیلت بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نفیلی نے کہا: چونکہ شیخ نے یہ حدیث «حَدَّثَنَا» اور «حَدَّثَنِي» کے الفاظ سے بیان کی ہے تو یہ مجھے شہد سے بھی پیاری ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے تھے کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا، فرماتے تھے: کوفیوں کی حدیث میں نور نہیں۔ اور کہا: میں نے اہل بصرہ جیسا کسی کو نہیں پایا۔ انہوں نے شعبہ سے علم (حدیث) حاصل کیا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المغازي 56 (4326)، صحیح مسلم/الإیمان 27 (63)، سنن ابن ماجہ/الحدود 36 (2610)، (تحفة الأشراف: 3902)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/169، 174، 179، 5/38، 46)، سنن الدارمی/السیر 83 (2572)، الفرائض 2 (2902) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4326، 4327) صحيح مسلم (63)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرةصحابي
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← نفيع بن مسروح الثقفي
صحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← أبو سعيد الخدري
ثقة ثبت
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← عاصم الأحول
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد القضاعي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5113
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5113 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5113
فوائد ومسائل:

اہل جاہلیت دوسرے کے بچوں کو اپنا منہ بولا بیٹا (متنبیٰ) بنالیتے تھے اورپھر اسے حقیقی بیتے والے حقوق دیتے تھے۔
اسی طرح وہ بچے بھی اپنی پرورش کرنے والوں کو اپنا باپ باور کراتے تھے۔
اسلام میں نسب بدلنے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
متنبیٰ تو بنایا جاسکتا ہے۔
مگر حقیقی اولاد یا حقیقی ماں باپ والے حقوق جاری نہیں ہو سکتے بالغ ہونے پر مشروع پر وہ کیا کرایا جائے گا۔
اور رشتہ ناطا بھی ہوسکتا ہے۔
جیسے کہ سورۃ احزاب میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
(ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّـهِ) (الأحزاب۔
5) انہیں ان کے باپوں (کے نسب) سے پکارو۔
اللہ کے نزدیک یہی بات انصاف کی ہے۔
اور فرمایا: (وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ) (الأحزاب۔
4) اللہ نے تمہارے پالکوں کو تمہارا بیٹا نہیں بنایا تاہم مجازا اور پیارسے دوسرے کے بچے کوبیٹا کہنا جائز ہے۔


امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی جرح اہل کوفہ کے بارے میں کہ ان کی حدیث میں نور نہیں سے مراد یہ ہ کہ یہ لوگ احادیث کی اسانید میں قدر اہمتمام نہ کرتے تھے۔
جو اہل حجاز کا خاصہ تھا۔
تاہم ان اہل کوفہ میں بھی ایک بڑی تعداد حافظہ اور حجۃ محدثین کی ہے۔
رحمۃ اللہ علیہم۔


جس طرح لوگوں کواپنا نسب بدلنا حرام ہے ایسے ہی کسی غلام کا اپنی نسبت بدل لینا حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5113]

Sunan Abi Dawud Hadith 5113 in Urdu