🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
153. باب ما جاء في رد الواحد عن الجماعة
باب: ایک آدمی کا جواب جماعت کی طرف سے کافی ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5210
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُفَضَّلِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ:" يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ , وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے)، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو (لوگ چل رہے ہوں) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کر لینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہو گا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5210]
امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے شیخ حسن بن علی نے اس روایت کو مرفوع ذکر کیا، فرمایا کہ: ایک جماعت گزر رہی ہو تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کہہ دینا کافی ہے اور بیٹھے ہوئے (لوگوں) میں سے کوئی ایک جواب دے دے تو کافی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10231) (صحیح) (الإرواء: 778، الصحیحة: 1148،1412)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور اگر سبھی جواب دیں تو یہ افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4648)
وللحديث شاھد عند الطبراني في الكبير (3/ 82، 83 ح 2730 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبيد الله بن أسلم المدني
Newعبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن الفضل القرشي
Newعبد الله بن الفضل القرشي ← عبيد الله بن أسلم المدني
ثقة
👤←👥سعيد بن خالد الخزاعي
Newسعيد بن خالد الخزاعي ← عبد الله بن الفضل القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الملك بن إبراهيم الجدي، أبو عبد الله
Newعبد الملك بن إبراهيم الجدي ← سعيد بن خالد الخزاعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الملك بن إبراهيم الجدي
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5210
يجزئ عن الجماعة إذا مروا ان يسلم احدهم , ويجزئ عن الجلوس ان يرد احدهم
بلوغ المرام
1243
يجزىء عن الجماعة إذا مروا ان يسلم احدهم ويجزىء عن الجماعة ان يرد احدهم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5210 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5210
فوائد ومسائل:
بعض حضرات نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحیحة‘حدیث:1148‘1412)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5210]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1243
ایک گروہ کا دوسرے گروہ پر سلام کا طریقہ
«وعن على رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: يجزىء عن الجماعة إذا مروا أن يسلم أحدهم ويجزىء عن الجماعة أن يرد أحدهم» [رواه أحمد والبيهقي]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی طرف سے جب وہ (کہیں سے) گزریں یہی کافی ہے کہ ان میں سے ایک آدمی سلام کہہ دے اور جماعت کی طرف سے یہی کافی ہے کہ ان میں سے ایک آدمی جواب دے دے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1243]

تخریج:
«صحيح» ،
[تحفة الاشراف: 429/7] ،
[بلوغ المرام: 1243] ،
[ابي داود: 5210]

فوائد:
➊ اگر جماعت کی طرف سے ایک آدمی سلام کہہ دے تو سب کا فرض ادا ہو گیا ورنہ سب گناہ گار ہوں گے جواب کا بھی یہی حکم ہے۔
ایک آدمی کا سلام کہہ دینا کافی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر سب سلام کہیں تو بہتر ہے اسی طرح اگر سب لوگ جواب دیں تو افضل ہے۔
[شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 42]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1243
ادب کا بیان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ایک جماعت کسی کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک آدمی کا سلام کہہ دینا کافی ہے اور جماعت میں سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے۔ (مسند احمد، سنن بیہقی) «بلوغ المرام/حدیث: 1243»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأدب، باب ما جاء في رد واحد عن الجماعة، حديث:5210، وأحمد: لم أجده، والبيهقي:9 /49 «الطبراني في الكبير:2 /82، 83، حديث:2730 وسنده حسن»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام کرنا اور اس کا جواب دینا فرض کفایہ ہے۔
2.جماعت میں سے ایک فرد اگر سلام کہے گا یا جواب دے گا تو تمام کی طرف سے ادائیگی ہو جائے گی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1243]

Sunan Abi Dawud Hadith 5210 in Urdu