🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
164. باب في الرجل يقول أنعم الله بك عينا
باب: آدمی یہ کہے کہ ”اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5227
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ قَتَادَةَ أَوْ غَيْرِهِ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , قَالَ:" كُنَّا نَقُولُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعِمْ صَبَاحًا , فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ , نُهِينَا عَنْ ذَلِكَ" , قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ مَعْمَرٌ: يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ: أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا , وَلَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَيْنَكَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: «أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا» اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور صبح خوشگوار بنائے لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں اس طرح کہنے سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر کہتے ہیں: «أنعم الله بك عينا» کہنا مکروہ ہے اور «أنعم الله عينك» کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5227]
جناب قتادہ رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے سے روایت ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم جاہلیت میں (ایک دوسرے کو) یوں کہا کرتے تھے: «أَنْعَمَ اللّٰهُ بِكَ عَيْنًا» اللہ تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رکھے۔ یا تمہاری وجہ سے تمہارے محبوب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور «أَنْعَمْ صَبَاحًا» صبح بخیر۔ پھر جب اسلام آ گیا تو ہمیں اس سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق نے بیان کیا کہ معمر نے کہا: «أَنْعَمَ اللّٰهُ بِكَ عَيْنًا» کہنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر «أَنْعَمَ اللّٰهُ عَيْنَكَ» کہے تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10836) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (قتادہ مدلس ہیں اور  «أنَّ»  سے روایت کئے ہیں نیز معمر نے شک سے روایت کیا ہے، قتادہ یا کسی اور سے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة لم يسمع من عمران بن حصين رضي اللّٰه عنه (انظر تحفة الأشراف 186/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥سلمة بن شبيب المسمعي، أبو عبد الرحمن
Newسلمة بن شبيب المسمعي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5227
كنا نقول في الجاهلية أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا فلما كان الإسلام نهينا عن ذلك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5227 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5227
فوائد ومسائل:
جاہلیت کے سے انداز میں سلام کرنا یا ایک دوسرے کو دعائیں دینا ناپسندیدہ عمل ہے۔
جب کہ ہمیں اس سے بہتر اور باعث اجر عمل کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ امام معمر ؒ کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اہل جاہلیت کے الفاظ بدل دیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
بالخصوص پہلے شرعی سلام کہا جائے پھر دوسری دعائیں ہوں۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5227]

Sunan Abi Dawud Hadith 5227 in Urdu