🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
150. باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 862
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَافْتِرَاشِ السَّبْعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ". هَذَا لَفْظُ قُتَيْبَةَ.
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کی طرح چونچ مارنے ۱؎، درندے کی طرح بازو بچھانے ۲؎، اور اونٹ کے مانند آدمی کے مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ متعین کر لینے سے (جیسے اونٹ متعین کر لیتا ہے) منع فرمایا ہے (یہ قتیبہ کے الفاظ ہیں)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 862]
سیدنا عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ (نماز میں) کوے کی طرح ٹھونگیں ماری جائیں یا درندے کی مانند پھیل کر بیٹھا جائے یا کوئی شخص مسجد میں (اپنے لیے) جگہ خاص کر لے جیسے کہ اونٹ خاص کر لیتا ہے۔ اور یہ لفظ قتیبہ کے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الافتتاح 145 (1113)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 204 (1429)، (تحفة الأشراف: 9701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/428، 444)، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1362) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کوے کی طرح چونچ مارنے سے مراد ارکان نماز کی ادائیگی جلدی جلدی کرنا ہے۔
۲؎: درندے کی طرح بازو بچھانے سے مراد سجدے میں دونوں ہاتھ کو زمین سے لگانا اور پیٹ کو رانوں سے ملا کر رکھنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1113) ابن ماجه (1429)
تميم بن محمود ضعفه البخاري والجمھور و ضعفه راجح
وللحديث شاھد ضعيف في مسند أحمد (447/5)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن شبل الأنصاريصحابي
👤←👥تميم بن محمود الأنصاري
Newتميم بن محمود الأنصاري ← عبد الرحمن بن شبل الأنصاري
مقبول
👤←👥جعفر بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الحميد
Newجعفر بن عبد الله الأنصاري ← تميم بن محمود الأنصاري
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← جعفر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
👤←👥جعفر بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الحميد
Newجعفر بن عبد الله الأنصاري ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← جعفر بن عبد الله الأنصاري
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1113
رسول الله نهى عن ثلاث عن نقرة الغراب افتراش السبع أن يوطن الرجل المقام للصلاة كما يوطن البعير
سنن أبي داود
862
نهى رسول الله عن نقرة الغراب افتراش السبع أن يوطن الرجل المكان في المسجد كما يوطن البعير
سنن ابن ماجه
1429
نهى رسول الله عن ثلاث عن نقرة الغراب عن فرشة السبع أن يوطن الرجل المكان الذي يصلي فيه كما يوطن البعير
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 862 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 862
862۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز میں حیوانات سے مشابہت کی ممانعت آئی ہے، جیسے کہ اونٹ کی طرح بیٹھنا اور اس حدیث میں جلدی جلدی نماز پڑھنے کو کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے تشبیہ دی گئی ہے، یا سجدہ میں انسان اپنی کہنیاں زمین پر بچھا لے تو درندے کی طرح پھیل کر بیٹھنے سے تشبیہ آئی ہے۔
➋ ایسے ہی مسجد میں نماز کے لیے اپنے لیے جگہ مخصوص کرنا بھی ممنوع ہے۔
➌ نماز کے بعد علمی حلقے کے لیے جگہ خاص کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 862]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1113
نماز میں جلدی میں کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے ممانعت کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع کیا ہے: ایک کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسری درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے سے، اور تیسری یہ کہ آدمی نماز کے لیے ایک جگہ خاص کر لے جیسے اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کو خاص کر لیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1113]
1113۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے، نیز علامہ اتیوبی شارح سنن النسائی نے مذکورہ حدیث کے پہلے اور دوسرے جز کو شاہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے اور شیخ البانی اور شارح سنن النسائی نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود معنا صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة: 157، 156/3، رقم: 1168، و ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائي: 343-337/13]
➋ کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے مراد بہت ہلکا سجدہ کرنا ہے حتیٰ کہ دیکھنے والا سمجھے ٹھونگیں مار رہا ہے۔ بلکہ سجدے میں کم از کم تین دفعہ تسبیح پڑھنی چاہیے۔ یہ نہیں کہ ایک تسبیح جاتے ہوئے، دوسری تسبیح سجدے میں اور تیسری اٹھتے ہوئے پڑھے کیونکہ یہ تو حقیقتاً سجدے میں ایک دفعہ تسبیح ہے۔
➌ بازو بچھانے سے مراد یہ ہے کہ سجدے یمں بازو زمین پر رکھ دے جس طرح کتا وغیرہ لیٹنے کی حالت میں زمین پر اپنے بازو کھول کر رکھ دیتا ہے اور منہ بھی زمین پر رکھ لیتا ہے۔
➍ ایک جگہ مقرر کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی اور جگہ نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ اگر کوئی دوسرا شخص اس جگہ آکھڑا ہو تو اسے ہٹا کر وہاں کھڑا ہو یا اس سے ناراض ہو، البتہ امام اور مؤذن اس سے مستثنیٰ ہیں کہ ان کے لیے مجبوری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1113]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1429
مسجد میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز میں) تین چیزوں سے منع فرمایا: ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1429]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے کا مطلب جلدی جلدی سجدے کرنا ہے۔
یہ عمل نماز میں توجہ اور خشوع کے خلاف ہے۔
اس لئے تمام ارکان اطمینان سے پورے اذکار اور دعایئں پڑھتے ہوئے ادا کرنے چاہیں۔

(2)
سجدہ کرتے وقت صرف ہاتھ زمین پر رکھنے چاہیں۔
کہنیوں تک بازو زمین پر پھیلانا درست نہیں۔

(3)
نماز کے لئے جگہ مقرر کرنا۔
اور دوسروں کووہاں نماز پڑھنے سے روکنا جائز نہیں۔
کیونکہ مسجد سب کےلئے مشترک ہے۔
ہاں اگرجگہ خالی دیکھ کر وہاں نماز پڑھتا ہے۔
اور اکثر ایسا ہوجاتا ہے۔
کہ وہیں نماز پڑھے تو جائز ہے۔
یا مثلاً ایک شخص صف میں دایئں طر ف کھڑا ہونا پسند کرتا ہے۔
تو یہ جائز ہے۔
جب کہ پہلے سے بیٹھے ہوئے شخص کو اٹھایا نہ جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1429]

Sunan Abi Dawud Hadith 862 in Urdu