🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. باب : النهى عن نقرة الغراب
باب: نماز میں جلدی میں کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1113
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ تَمِيمَ بْنَ مَحْمُودٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِبْلٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَقَامَ لِلصَّلَاةِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ".
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع کیا ہے: ایک کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسری درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے سے، اور تیسری یہ کہ آدمی نماز کے لیے ایک جگہ خاص کر لے جیسے اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کو خاص کر لیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1113]
حضرت عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا: کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے، درندے کی طرح بازو بچھانے سے اور آدمی نماز کے لیے ایک ہی جگہ مقرر کرلے، جیسے اونٹ (بیٹھنے کے لیے) ایک جگہ مقرر کر لیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 148 (862)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 204 (1429)، (تحفة الأشراف: 9701)، مسند احمد 3/428، 444، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1362) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (862) ابن ماجه (1429) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن شبل الأنصاريصحابي
👤←👥تميم بن محمود الأنصاري
Newتميم بن محمود الأنصاري ← عبد الرحمن بن شبل الأنصاري
مقبول
👤←👥جعفر بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الحميد
Newجعفر بن عبد الله الأنصاري ← تميم بن محمود الأنصاري
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي هلال الليثي، أبو العلاء
Newسعيد بن أبي هلال الليثي ← جعفر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥خالد بن يزيد الجمحي، أبو عبد الرحيم
Newخالد بن يزيد الجمحي ← سعيد بن أبي هلال الليثي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← خالد بن يزيد الجمحي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥شعيب بن الليث الفهمي، أبو عبد الملك
Newشعيب بن الليث الفهمي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله البالسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله البالسي ← شعيب بن الليث الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1113
رسول الله نهى عن ثلاث عن نقرة الغراب افتراش السبع أن يوطن الرجل المقام للصلاة كما يوطن البعير
سنن أبي داود
862
نهى رسول الله عن نقرة الغراب افتراش السبع أن يوطن الرجل المكان في المسجد كما يوطن البعير
سنن ابن ماجه
1429
نهى رسول الله عن ثلاث عن نقرة الغراب عن فرشة السبع أن يوطن الرجل المكان الذي يصلي فيه كما يوطن البعير
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1113 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1113
1113۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے، نیز علامہ اتیوبی شارح سنن النسائی نے مذکورہ حدیث کے پہلے اور دوسرے جز کو شاہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے اور شیخ البانی اور شارح سنن النسائی نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود معنا صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة: 157، 156/3، رقم: 1168، و ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائي: 343-337/13]
➋ کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے مراد بہت ہلکا سجدہ کرنا ہے حتیٰ کہ دیکھنے والا سمجھے ٹھونگیں مار رہا ہے۔ بلکہ سجدے میں کم از کم تین دفعہ تسبیح پڑھنی چاہیے۔ یہ نہیں کہ ایک تسبیح جاتے ہوئے، دوسری تسبیح سجدے میں اور تیسری اٹھتے ہوئے پڑھے کیونکہ یہ تو حقیقتاً سجدے میں ایک دفعہ تسبیح ہے۔
➌ بازو بچھانے سے مراد یہ ہے کہ سجدے یمں بازو زمین پر رکھ دے جس طرح کتا وغیرہ لیٹنے کی حالت میں زمین پر اپنے بازو کھول کر رکھ دیتا ہے اور منہ بھی زمین پر رکھ لیتا ہے۔
➍ ایک جگہ مقرر کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی اور جگہ نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ اگر کوئی دوسرا شخص اس جگہ آکھڑا ہو تو اسے ہٹا کر وہاں کھڑا ہو یا اس سے ناراض ہو، البتہ امام اور مؤذن اس سے مستثنیٰ ہیں کہ ان کے لیے مجبوری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1113]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 862
رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کی طرح چونچ مارنے ۱؎، درندے کی طرح بازو بچھانے ۲؎، اور اونٹ کے مانند آدمی کے مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ متعین کر لینے سے (جیسے اونٹ متعین کر لیتا ہے) منع فرمایا ہے (یہ قتیبہ کے الفاظ ہیں)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 862]
862۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز میں حیوانات سے مشابہت کی ممانعت آئی ہے، جیسے کہ اونٹ کی طرح بیٹھنا اور اس حدیث میں جلدی جلدی نماز پڑھنے کو کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے تشبیہ دی گئی ہے، یا سجدہ میں انسان اپنی کہنیاں زمین پر بچھا لے تو درندے کی طرح پھیل کر بیٹھنے سے تشبیہ آئی ہے۔
➋ ایسے ہی مسجد میں نماز کے لیے اپنے لیے جگہ مخصوص کرنا بھی ممنوع ہے۔
➌ نماز کے بعد علمی حلقے کے لیے جگہ خاص کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 862]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1429
مسجد میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز میں) تین چیزوں سے منع فرمایا: ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1429]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے کا مطلب جلدی جلدی سجدے کرنا ہے۔
یہ عمل نماز میں توجہ اور خشوع کے خلاف ہے۔
اس لئے تمام ارکان اطمینان سے پورے اذکار اور دعایئں پڑھتے ہوئے ادا کرنے چاہیں۔

(2)
سجدہ کرتے وقت صرف ہاتھ زمین پر رکھنے چاہیں۔
کہنیوں تک بازو زمین پر پھیلانا درست نہیں۔

(3)
نماز کے لئے جگہ مقرر کرنا۔
اور دوسروں کووہاں نماز پڑھنے سے روکنا جائز نہیں۔
کیونکہ مسجد سب کےلئے مشترک ہے۔
ہاں اگرجگہ خالی دیکھ کر وہاں نماز پڑھتا ہے۔
اور اکثر ایسا ہوجاتا ہے۔
کہ وہیں نماز پڑھے تو جائز ہے۔
یا مثلاً ایک شخص صف میں دایئں طر ف کھڑا ہونا پسند کرتا ہے۔
تو یہ جائز ہے۔
جب کہ پہلے سے بیٹھے ہوئے شخص کو اٹھایا نہ جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1429]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1113 in Urdu