یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
حدیث نمبر: 863
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قَالَ: أَتَيْنَا عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ أَبَا مَسْعُود، فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا فِي الْمَسْجِدِ" فَكَبَّرَ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ جَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَجَلَسَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِثْلَ هَذِهِ الرَّكْعَةِ فَصَلَّى صَلَاتَهُ". ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي.
سالم براد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے تو وہ مسجد میں ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے «الله اكبر» کہا، پھر جب وہ رکوع میں گئے تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیاں اس سے نیچے رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنے اپنے مقام پر جم گیا، پھر انہوں نے «سمع الله لمن حمده» کہا اور کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر آ کر ٹھہر گیا، پھر «الله اكبر» کہہ کر سجدہ کیا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور بیٹھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا، پھر دوبارہ ایسا ہی کیا، پھر چاروں رکعتیں اسی کی طرح پڑھیں (اس طرح) انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 863]
جناب سالم براد بیان کرتے ہیں کہ (ہاتھوں کو پہلوؤں) سے دور رکھا، حتیٰ کہ ہر ہر جوڑ اپنی جگہ پر ٹک گیا۔ پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا اور کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ ہر ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر ٹک گیا۔ پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا اور ہاتھوں کو زمین پر رکھا، پھر کہنیوں کو پہلوؤں سے دور کیا، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ پر ٹک گیا، پھر (سجدے سے) اپنا سر اٹھایا اور بیٹھے، حتیٰ کہ ہر ہر عضو اپنی جگہ پر ٹک گیا۔ پھر (دوسرے سجدے میں) بھی ایسے ہی کیا، پھر اسی طرح چار رکعتیں پڑھیں اور اپنی نماز پوری کی، پھر فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 93 (1037)، (تحفة الأشراف: 9985)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/119، 120، 5/247)، سنن الدارمی/الصلاة 68(1343) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (1037 وسنده حسن) عطاء بن السائب حدث قبل اختلاطه
أخرجه النسائي (1037 وسنده حسن) عطاء بن السائب حدث قبل اختلاطه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
863
| كبر فلما ركع وضع يديه على ركبتيه وجعل أصابعه أسفل من ذلك وجافى بين مرفقيه |
سنن النسائى الصغرى |
1037
| لما ركع وضع راحتيه على ركبتيه وجعل أصابعه أسفل من ذلك وجافى بمرفقيه حتى استوى كل شيء منه ثم قال سمع الله لمن حمده فقام حتى استوى كل شيء منه |
سنن النسائى الصغرى |
1038
| لما ركع وضع راحتيه على ركبتيه وجعل أصابعه من وراء ركبتيه وجافى إبطيه حتى استقر كل شيء منه ثم رفع رأسه فقام حتى استوى كل شيء منه ثم سجد فجافى إبطيه حتى استقر كل شيء منه ثم قعد حتى استقر كل شيء منه ثم سجد حتى استقر كل شيء منه ثم صنع كذلك أربع ركعات ثم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 863 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 863
863۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز میں اعتدال و اطمینان واجب ہے، اس کے بغیر نماز باطل ہوتی ہے۔
➋ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا بلکہ گھٹنوں کو پکڑنا مسنون ہے۔ [سنن نسائي۔ حديث 1035۔ 1036]
جب کہ تطبیق منسوخ ہے۔
➌ رکوع اور سجدے میں کہنیوں کو پہلووں سے دور رکھنا چاہیے۔
➊ نماز میں اعتدال و اطمینان واجب ہے، اس کے بغیر نماز باطل ہوتی ہے۔
➋ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا بلکہ گھٹنوں کو پکڑنا مسنون ہے۔ [سنن نسائي۔ حديث 1035۔ 1036]
جب کہ تطبیق منسوخ ہے۔
➌ رکوع اور سجدے میں کہنیوں کو پہلووں سے دور رکھنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 863]
Sunan Abi Dawud Hadith 863 in Urdu
سالم البراد ← أبو مسعود الأنصاري