الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
667. (434) باب ذكر خبر روي فى قصة ذي اليدين،
ذوالیدین کے قصّہ میں مروی اس حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 1042
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ مِنْ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيُّ، وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ: قَصُرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ"، قَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ"، قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَمَّ الصَّلاةَ" ، وَلَمْ يُحَدِّثْنِي أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي تِلْكَ الصَّلاةِ وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ أَجْلِ أَنَّ النَّاسَ يَقَّنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَيْقَنَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، ان دو میں سے کسی ایک نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا تو بنی زہرہ کے حلیف ذوالشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ الخزاعی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول کہ کیا نماز کم ہو گئ ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی۔“ ذوالشمالین نے عرض کی اس میں سے کچھ ضرور ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر دریافت کیا: ”کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے۔“ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز مکمّل کی۔ امام زہری کہتے ہیں کہ (ابن مسیّب، ابوسلمہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور عبیداللہ) ان میں سے کسی نے بھی مجھے یہ بیان نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز (کے تشہد) میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے تھے۔ ہمارے خیال میں یہ اس لئے تھا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز میں بھول جانے کا) یقین دلایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہوگیا (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کیے) واللہ اعلم [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← أبو هريرة الدوسي