صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
701. (468) باب استحباب تخفيف الركعتين قبل الفجر اقتداء بالنبي المصطفى صلى الله عليه وسلم،
نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز نماز فجر سے پہلے کی دو رکعات کو مختصر اور ہلکا ادا کرنا مستحب ہے کیونکہ سنّت نبوی کی اتباع
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ" فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى إِنِّي لأَقُولَ: قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْكِتَابِ؟" وَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: حَتَّى أَقُولَ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِشَيْءٍ؟
سیدہ عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ آپ فرمایا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعات ادا فرماتے تو انہیں اس قدر ہلکا پڑھتے کہ میں کہتی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات میں سورہ الفاتحه بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ ابوعمار کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ حتیٰ کہ میں (دل میں) کہتی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں میں کچھ پڑھا بھی ہے یا نہیں؟ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1171، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 724، ومالك فى (الموطأ) برقم: 420، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1113، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2465، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 945، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1255، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4958، 4959، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24759»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1113 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1113
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ فجر کی سنتوں کا وقت طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے اور طلوع فجر کے ساتھ ہی فجر کی سنتیں ادا کرنا اور ان میں تخفیف کرنا مستحب عمل ہے۔
مالک، شافعی اور جمہور علماء اسی مذہب کے قائل ہیں۔
تاہم بعض سلف سے منقول ہے کہ فجر کی سنتوں میں طوالت اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ان میں لمبی قراءت حرام نہیں اور یہ تخفیف کے مستحب ہونے کے خلاف نہیں ہے۔
البتہ کچھ علماء نے مبالغہ آرائی کی اور کہا کہ فجر کی سنتوں میں اصلاً قراءت نہیں ہے۔
◈ طحاوی اور قاضی عیاض نے یہ حکایت بیان کی ہے، لیکن یہ موقف فاش غلط ہے۔ [شرح النووي: 6/2]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ فجر کی سنتوں کا وقت طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے اور طلوع فجر کے ساتھ ہی فجر کی سنتیں ادا کرنا اور ان میں تخفیف کرنا مستحب عمل ہے۔
مالک، شافعی اور جمہور علماء اسی مذہب کے قائل ہیں۔
تاہم بعض سلف سے منقول ہے کہ فجر کی سنتوں میں طوالت اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ان میں لمبی قراءت حرام نہیں اور یہ تخفیف کے مستحب ہونے کے خلاف نہیں ہے۔
البتہ کچھ علماء نے مبالغہ آرائی کی اور کہا کہ فجر کی سنتوں میں اصلاً قراءت نہیں ہے۔
◈ طحاوی اور قاضی عیاض نے یہ حکایت بیان کی ہے، لیکن یہ موقف فاش غلط ہے۔ [شرح النووي: 6/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1113]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1113 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق