صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
763. (530) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما أمر بأن يجعل بعض صلاة التطوع فى البيوت لا كلها؛
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں بعض نفلی نمازوں کے پڑھنے کا حُکم دیا ہے۔ ساری نفلی نماز کا حُکم نہیں دیا
حدیث نمبر: Q1206
«إِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا يَجْعَلُ فِي بَيْتِ الْمُصَلِّي مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا» خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ: «اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ» دَالٌّ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِأَنْ يَجْعَلَ بَعْضَ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ لَا كُلَّهَا
حدیث نمبر: 1206
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلاتِهِ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلاتِهِ خَيْرًا" . رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَغَيْرُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، لَمْ يَذْكُرُوا أَبَا سَعِيدٍ، ثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں اپنی نماز پڑھ لے تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنی نماز سے اپنے گھر کا حصّہ بھی رکھے۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ اس کی نماز کے باعث اس کے گھر میں خیر و برکت کر دیتا ہے۔“ یہ روایت ابوخالد احمر، ابومعاویہ اور عبدہ بن سلیمان وغیرہ نے اپنی اپنی اسانید کے ساتھ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے اور اُنہوں نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التطوع غير ما تقدم ذكرنا لها/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1206، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3086، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11281»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1206 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1206
فوائد:
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
راجح قول کے مطابق یہاں نماز سے مراد نوافل ہیں، اس موضوع کی متعلقہ احادیث اسی مفہوم کا تقاضا کرتی ہیں اور اس نماز (نوافل) کو فرض پر محمول کرنا جائز نہیں۔
نیز نوافل کو گھر میں ادا کرنے کی ترغیب اس لیے دی گئی ہے کہ گھر میں نوافل کا اہتمام ریا کاری سے بعید تر اور (عبادت کو) ضائع کرنے والے عوامل سے محفوظ تر ہے۔
اس عمل سے برکت حاصل ہوتی ہے، رحمت اور فرشتے نازل ہوتے ہیں اور شیطان گھروں سے بھاگتا ہے۔ [شرح النووي: 67/6]
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
راجح قول کے مطابق یہاں نماز سے مراد نوافل ہیں، اس موضوع کی متعلقہ احادیث اسی مفہوم کا تقاضا کرتی ہیں اور اس نماز (نوافل) کو فرض پر محمول کرنا جائز نہیں۔
نیز نوافل کو گھر میں ادا کرنے کی ترغیب اس لیے دی گئی ہے کہ گھر میں نوافل کا اہتمام ریا کاری سے بعید تر اور (عبادت کو) ضائع کرنے والے عوامل سے محفوظ تر ہے۔
اس عمل سے برکت حاصل ہوتی ہے، رحمت اور فرشتے نازل ہوتے ہیں اور شیطان گھروں سے بھاگتا ہے۔ [شرح النووي: 67/6]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1206]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1206 in Urdu
عبدة بن سليمان الكوفي ← سليمان بن مهران الأعمش