صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1089. (138) باب المدرك وترا من صلاة الإمام، وجلوسه فى الوتر من صلاته اقتداء بالإمام.
جس شخص کو امام کی نماز سے وتر (ایک یا تین) رکعت ملے تو وہ اپنے امام کی اقتداء میں وتر رکعت میں (تشہد کے لئے) بیٹھے گا
حدیث نمبر: 1642
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ: عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَرَّزُ، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ كَفَّهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلاةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلاتَهُ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ، وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، لأَنَّهُمْ سَبَقُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمْ:" أَحْسَنْتُمْ، أَوْ أَصَبْتُمْ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں فجر سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے ہٹ گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھا لہٰذا میں بھی راستے سے ہٹ گیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور قضائے حاجت کی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے) تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر برتن سے پانی انڈیلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ مبارک دھویا پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبّے کی آستینیں تنگ ہو گئیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جبّے کے اندر داخل کرکے جبّے کے نیچے سے نکال لئے اور اُنہیں کہنیوں تک دھو لیا - پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر آپ (اونٹنی پر) سوار ہو گئے۔ پھر ہم چلتے ہوئے لوگوں کے پاس پہنچے تو ہم نے اُنہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا، اُنہوں نے سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کیا ہوا تھا اور وہ اُنہیں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے اور سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اﷲ عنہ کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی۔ پھر سیدنا عبدالرحمان رضی اﷲ عنہ نے سلام پھیر دیا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر اپنی نماز مکمّل کرنے لگے - اس پر مسلمان سخت گھبرا گئے اور بکثرت تسبیحات پڑھنے لگے۔ کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز پڑھ لی تھی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو انہیں فرمایا: ”تم نے بہت اچھا کام کیا ہے، یا تم نے درست کام کیا ہے (کہ نماز کو اُس کے وقت پر با جماعت ادا کر لیا ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، 191، 203، 1064، 1514، 1515، 1642، 1645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1642 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1642
فوائد:
➊ نماز باجماعت کھڑی ہو تو بعد میں آنے والے مقتدی اسی حالت کو اختیار کریں گے جس حالت میں امام ہے، خواہ نماز نفل ہو یا فرض۔ پھر جو امام کے ساتھ نماز پائیں، وہ ان کی اول نماز ہوگی اور بقیہ نماز سلام پھیرنے کے بعد ادا کریں گے۔
➋ نمازِ وتر کی جماعت قائم ہو تو بعد میں آنے والے مقتدی اسی حالت میں شامل ہوں گے جس حالت میں امام ہے، وہ اپنے طور پر شروع سے نماز کا آغاز نہ کریں۔ یہ صورت مستحب ہے۔
➊ نماز باجماعت کھڑی ہو تو بعد میں آنے والے مقتدی اسی حالت کو اختیار کریں گے جس حالت میں امام ہے، خواہ نماز نفل ہو یا فرض۔ پھر جو امام کے ساتھ نماز پائیں، وہ ان کی اول نماز ہوگی اور بقیہ نماز سلام پھیرنے کے بعد ادا کریں گے۔
➋ نمازِ وتر کی جماعت قائم ہو تو بعد میں آنے والے مقتدی اسی حالت میں شامل ہوں گے جس حالت میں امام ہے، وہ اپنے طور پر شروع سے نماز کا آغاز نہ کریں۔ یہ صورت مستحب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1642]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1642 in Urdu
عروة بن المغيرة الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي