صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کو اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے چھوڑنے پر سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 2024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میری سنّت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2024]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2024، وانفرد به المصنف من هذا الطريق»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2024 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2024
فوائد:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو بلا عذر ترک کرنا مکروہ فعل ہے۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی صریح مخالفت کرنے والا عاصی ہے اور صاحبِ اختیار و اقتدار ایسے لوگوں کو عاصی کہہ سکتے ہیں۔ عام لوگوں کا تارکینِ سنت کو نافرمان کے القابات سے پکارنا مکروہ ہے۔ کیونکہ اس سے لوگ صحیح اثر لینے کی بجائے بغاوت پر اتر آتے ہیں اور ضد میں آ کر غیر مسنون طریقوں پر پڑ جاتے ہیں، لہٰذا حکمت سے ایسے لوگوں کو غیر مسنون طریقہ سے چھڑایا جا سکتا ہے۔
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو بلا عذر ترک کرنا مکروہ فعل ہے۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی صریح مخالفت کرنے والا عاصی ہے اور صاحبِ اختیار و اقتدار ایسے لوگوں کو عاصی کہہ سکتے ہیں۔ عام لوگوں کا تارکینِ سنت کو نافرمان کے القابات سے پکارنا مکروہ ہے۔ کیونکہ اس سے لوگ صحیح اثر لینے کی بجائے بغاوت پر اتر آتے ہیں اور ضد میں آ کر غیر مسنون طریقوں پر پڑ جاتے ہیں، لہٰذا حکمت سے ایسے لوگوں کو غیر مسنون طریقہ سے چھڑایا جا سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2024]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2024 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي