صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1586. (31) باب سمة غنم الصدقة إذا قبضت
بکریوں کی زکوٰۃ وصول ہونے پر انہیں نشان لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 2283
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ , قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: حِينَ وَلَدَتْ أُمِّي انْطَلَقْتُ بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ،" فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ لَهُ، يَسِمُ غَنَمًا" ، قَالَ شُعْبَةُ: أَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میری والدہ نے بچّے کو جنم دیا تو میں بچّے کو لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تاکہ آپ کھجور چبا کر اُس کے تالو کو لگائیں۔ اُس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے باڑے میں بکریوں کو نشان لگارہے تھے۔ امام شعبہ کہتے ہیں۔ میرے خیال میں جناب ہشام نے یہ کہا تھا کہ آپ بکریوں کے کانوں پرنشان لگارہے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2283]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1301، 1502، 5470، 5542، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2119، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2283، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3565، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7230، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12210»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥هشام بن زيد الأنصاري هشام بن زيد الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← هشام بن زيد الأنصاري | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن جعفر الهذلي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← محمد بن جعفر الهذلي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2283 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2283
فوائد:
➊ انسان کو داغ کر خاص نشان لگانا حرام ہے اور حیوانات کو داغنا جائز ہے۔
➋ لیکن ان کے چہرے پر نشان لگانا ممنوع ہے۔
➌ البتہ زکوٰۃ کے اونٹوں اور بکریوں کے چہروں کے سوا دیگر اعضاء کو داغنا مستحب اور دیگر حیوانات میں جائز ہے۔
➍ بکریوں کو داغتے وقت ان کے کانوں پر نشان لگانا اور اونٹوں اور گایوں کو داغتے وقت ان کی رانوں پر نشانات لگانا مستحب عمل ہے، کیونکہ یہ جسم کے سخت حصے ہیں۔
➎ یہاں داغنے کی تکلیف کم ہوتی ہے اور بالوں کی کمی کی وجہ سے داغنے کے نشانات نمایاں ہوتے ہیں۔
➏ اور داغنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے جانوروں میں تمیز واقع ہوتی ہے اور ان کی پہچان آسان ہو جاتی ہے۔ [شرح النووی: 231/7]
➊ انسان کو داغ کر خاص نشان لگانا حرام ہے اور حیوانات کو داغنا جائز ہے۔
➋ لیکن ان کے چہرے پر نشان لگانا ممنوع ہے۔
➌ البتہ زکوٰۃ کے اونٹوں اور بکریوں کے چہروں کے سوا دیگر اعضاء کو داغنا مستحب اور دیگر حیوانات میں جائز ہے۔
➍ بکریوں کو داغتے وقت ان کے کانوں پر نشان لگانا اور اونٹوں اور گایوں کو داغتے وقت ان کی رانوں پر نشانات لگانا مستحب عمل ہے، کیونکہ یہ جسم کے سخت حصے ہیں۔
➎ یہاں داغنے کی تکلیف کم ہوتی ہے اور بالوں کی کمی کی وجہ سے داغنے کے نشانات نمایاں ہوتے ہیں۔
➏ اور داغنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے جانوروں میں تمیز واقع ہوتی ہے اور ان کی پہچان آسان ہو جاتی ہے۔ [شرح النووی: 231/7]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2283]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2283 in Urdu
هشام بن زيد الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري