صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1641. (86) باب ذكر إعطاء العامل على الصدقة عمالة من الصدقة وإن كان غنيا
زکوٰۃ کے تحصیل دار کو زکوٰۃ کے مال سے مزدوری دینا درست ہے اگرچہ وہ مالدار ہو
حدیث نمبر: 2368
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عِمْرَانَ هُوَ الْبَارِقِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، مَعَ بَرَاءَتِي مِنْ عُهْدَتِهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلا لِخَمْسَةٍ: الْعَامِلِ عَلَيْهَا، أَوْ غَارِمٍ، أَوْ مُشْتَرِيهَا، أَوْ عَامِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، أَوْ أُهْدَى لَهُ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار شخص کے لئے زکوٰۃ کا مال لینا حلال نہیں ہے سوائے پانچ قسم کے مالدار اشخاص کے۔ وہ زکوٰۃ کا تحصیلدار ہو (تو مزدوری لے سکتا ہے) یا مقروض ہو یا وہ زکوٰۃ کا مال خرید لے یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو یا جس کا پڑوسی فقیر ہو جسے زکوٰۃ دی گئی ہو اور وہ فقیر (مال دار ہمسائے کو اس زکوٰۃ کے مال میں سے) ہدیہ کردے (تو اس کا لینا جائز ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2368]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 919، وابن الجارود فى "المنتقى"، 402، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2368، 2374، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1485، 1486، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1635، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1841، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13288، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1997، 1998، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11440»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن عطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري | ضعيف الحديث | |
👤←👥عمران البارقي عمران البارقي ← عطية بن سعد العوفي | مقبول | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عمران البارقي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الكبير بن عبد المجيد البصري، أبو بكر عبد الكبير بن عبد المجيد البصري ← سفيان الثوري | ثقة | |
👤←👥محمد بن معمر القيسي، أبو عبد الله محمد بن معمر القيسي ← عبد الكبير بن عبد المجيد البصري | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2368 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2368
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ صدقہ و زکوٰۃ بھی پانچ اغنیاء استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ کسی بھی مالدار شخص کے لیے صدقہ و زکوٰۃ لینا اور استعمال کرنا جائز نہیں۔
◈ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ مذکورہ پانچ اغنیاء کے سوا فرض زکوٰۃ کسی غنی کے لیے بھی حلال نہیں۔ [عون المعبود: 5/86]
➋ عاملِ زکوٰۃ فقیر ہو یا غنی اپنی اجرت کے طور پر زکوٰۃ کے مال سے لے سکتا ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ صدقہ و زکوٰۃ بھی پانچ اغنیاء استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ کسی بھی مالدار شخص کے لیے صدقہ و زکوٰۃ لینا اور استعمال کرنا جائز نہیں۔
◈ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ مذکورہ پانچ اغنیاء کے سوا فرض زکوٰۃ کسی غنی کے لیے بھی حلال نہیں۔ [عون المعبود: 5/86]
➋ عاملِ زکوٰۃ فقیر ہو یا غنی اپنی اجرت کے طور پر زکوٰۃ کے مال سے لے سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2368]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2368 in Urdu
عطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري