صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
608. (375) باب التغليظ فى النوم عند الصلاة المكتوبة
فرض نماز کے وقت سوئے رہنے پر سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 942
نَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدَ الْمَجِيدِ ، وَمُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ نَحْوَهُ مِنْ كِتَابِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَقَرَأَهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لأَصْحَابِهِ:" هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ"، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ:" إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، فَقَالا لِي: انْطَلِقْ، انْطَلِقْ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِصَخْرَةٍ، وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ فَيَبْلُغُ رَأْسَهُ، فَيُدَهْدِهُ الْحَجَرَ هَاهُنَا، فَيَتْبَعُهُ، فَيَأْخُذُهُ، فِيمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يُصْبِحَ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ، فَيَفْعَلُ بِهِ كَمَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: قَالا:" أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ، أَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ ؛ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ وَيَنَامُ عَنِ الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (صبح کی نماز کے بعد) اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کرتے تھے کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ تو جس نے خواب دیکھا ہوتا وہ اللہ کی مشیت سے بیان کر دیتا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر بتاتے)، ایک صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا: ”آج رات میرے پاس دو آنے والے (خواب میں) آئے اور ان دونوں نے مجھے جگایا اور مجھے کہنے لگے کہ چلیں چلیں، تو ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جب کہ ایک اور شخص اس کے سر پر بہت بڑا پتھر کیے کھڑا تھا، اچانک وہ اس پتھر کو لیکر اس کی طرف بڑھا اور اُس کے سر پر دے مارا، پتھر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اِدھر اُدھر لڑھک گیاـ وہ اس کے پیچھے گیا، اُسے دوبارہ پکڑا اور اُس کے واپس آنے تک اس کا سر دوبارہ پہلے کی طرح صحیح سالم ہو چکا تھا ـ پھر وہ دوبارہ اُس کے پاس آکر پہلے کی طرح مارتا ہے -“ پھر مکمّل حدیث بیان کی ـ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں (فرشتوں) نے کہا کہ ہم عنقریب آپ کو حقیقیت حال بتلائیں گے۔ رہا وہ شخص جس کے پاس آپ آئے تھے اس کا سر کچلا جا رہا تھا تو وہ شخص تھا جس نے قرآن سیکھ کر بھلا دیا تھا اور غافل ہو کر فرض نماز سے سویا رہتا تھا۔“ پھر بقیہ مکمّل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 942]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 845، 1143، 1386، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2275، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 655، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2294، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3078، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20411»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 942 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 942
فوائد:
➊ اس حدیث میں مذکورہ بداعمالیوں کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے، جن سے حتی الوسع اجتناب لازم ہے۔
➋ نیز فرض نمازوں سے بلا عذر غفلت برتنا نہایت گھناؤنا جرم اور اس کی سخت سزا ہے۔
➌ سو اس غفلت سے نجات حاصل کرنا ہر نمازی پر لازم ہے۔
➊ اس حدیث میں مذکورہ بداعمالیوں کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے، جن سے حتی الوسع اجتناب لازم ہے۔
➋ نیز فرض نمازوں سے بلا عذر غفلت برتنا نہایت گھناؤنا جرم اور اس کی سخت سزا ہے۔
➌ سو اس غفلت سے نجات حاصل کرنا ہر نمازی پر لازم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 942]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 942 in Urdu
عمران بن ملحان العطاردي ← سمرة بن جندب الفزاري