الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
تجارتوں کے بارے میں باب
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا يُقَالُ لَهُ شَهْرٌ، كَانَ تَاجِرًا وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أحَدٍ حَتَّى يَذَرَ، إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ .
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے شہر نامی شخص سے سنا جو کہ تاجر تھا، اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ (بولی لگانے) کے متعلق پوچھا، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کے سودے پر سودا کرے، حتیٰ کہ وہ اسے چھوڑ دے، غنائم اور وراثتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن الدارقطني: 11/3»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
زيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي