مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. في المريض ما يرقى به وما يعوذ به؟
مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
ترقیم عوامۃ: 24050 ترقیم الشثری: -- 25130
٢٥١٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن ابي زياد عن سليمان بن عمرو بن (الاحوص) (١) عن امه ام جندب (قالت) (٢) : ⦗١٦٠⦘ رايت رسول الله ﷺ (٣) (تبعته) (٤) امراة من خثعم معها (صبي) (٥) لها (به) (٦) بلاء (٧) ، (فقالت: يا رسول الله إن هذا ابني وبقية اهلي، وبه بلاء) (٨) ، لا يتكلم، فقال رسول الله ﷺ:"ائتوني بشيء من ماء"، فاتي به، فغسل فيه يديه ومضمض فاه (فيه) (٩) ، ثم اعطاها فقال:"اسقيه منه (وصبي عليه منه) (١٠) واستشفي الله له"، فلقيت المراة فقلت: لو وهبت لي منه، فقالت: إنما هو لهذا (المبتلى) (١١) ، فلقيت المراة من الحول فسالتها عن الغلام فقالت: برا وعقل (عقلا) (١٢) ليس كعقول الناس (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (الأخوص).
(٢) في [أ، ط]: (قال)، وكذلك في: [جـ].
(٣) زاد في [هـ]: (رمى جمرة العقبة من بطن الوادي يوم النحر ثم انصرف و).
(٤) في [ط]: (بنعة)، وفي [أ، ح]: (تبغنه).
(٥) في [ط]: (حبي).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) زاد في [هـ]: (لا يتكلم).
(٨) سقط من: [جـ].
(٩) سقط من: [ط، هـ].
(١٠) ساقطة في: [أ، ح، ط].
(١١) في [ط]: (اللبتلا).
(١٢) سقط من: [ز].
(١٣) ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد (٢٧١٣١)، وابن ماجه (٣٥٣٢)، وعبد بن حميد (١٥٦٧)، وابن سعد ٨/ ٣٠٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٩٣)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ٤٤٤، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٣٥٢، وأبو نعيم في الدلائل (٣٩٣).
حضرت سلیمان بن عمرو بن احوص اپنی والدہ ام جندب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک عورت آرہی تھی اور اس کے پاس اس کا بچہ تھا جس کو کوئی بیماری تھی، یہ عورت کہہ رہی تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ میرا بٹاپ ہے اور یہی میرے خاندان کا بقیہ (بچا ہوا) ہے، لیکن اس کو کوئی بیماری ہے کہ یہ گفتگو نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ“ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پانی عورت کو دے کر ارشاد فرمایا: ”اس پانی میں سے کچھ اس بچہ کو پلا دو اور کچھ پانی اس بچہ پر انڈیل دو اور اللہ تعالیٰ سے اس بچہ کے لئے شفا مانگو“ (راویہ کہتی ہیں) میں اس عورت سے ملی تھی اور میں نے اس سے کہا تھا۔ اگر تم یہ بچہ مجھے ہدیہ کردو؟ اس عورت نے کہا یہ بچہ تو اسی مصیبت کا ہے پھر میں اس عورت سے اگلے سال ملی اور میں نے اس سے بچہ کے بارے میں پوچھا؟ تو اس نے کہا وہ صحت یاب ہوگیا اور وہ ایسی عقل کا مالک ہے کہ وہ عام لوگوں کی عقلوں سے جدا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25130، ترقيم محمد عوامة 24050)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25130 in Urdu