سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. باب التسليم فى الجنازة واحدا والتكبير أربعا وخمسا وقراءة الفاتحة
باب نماز جنازہ میں ایک سلام پھیرا جائے گا ‘ چاریاپانچ تکبیریں کہی جائیں گی اور سورہ فاتحہ پڑھی جائے
ترقیم العلمیہ : 1803 ترقیم الرسالہ : -- 1827
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ، وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي وَأَنَا أَقُولُ: وَارَأْسَاهُ، فَقَالَ:" بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهُ"، ثُمَّ قَالَ:" مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَكَفَّنْتُكِ ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ"، قَالَتْ: كَأَنِّي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ، رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَعَرَّسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَدَى فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع (کے میدان میں کسی شخص کے جنازے میں شریک ہو کر واپس آئے)، مجھے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا، میں یہ کہہ رہی تھی: ”ہائے میرا سر!“ (اس کا بامحاورہ ترجمہ یہ ہو گا: ہائے! میں مر گئی)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہائے میرا سر!“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کر جاتی ہو، تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا، کیونکہ میں تمہیں کفن دوں گا، تمہاری نماز جنازہ ادا کروں گا، تمہیں دفن کروں گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! جب آپ ایسا کر لیں گے، تو واپس میرے گھر میں آئیں گے اور یہاں اپنی نئی زوجہ محترمہ کے ساتھ رات گزاریں گے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تکلیف کا آغاز ہوا، جس میں آپ کا وصال ہوا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1827]
ترقیم العلمیہ: 1803
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6586، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7042، 7043، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 81، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1465، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6758، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1827، 1828، 1829، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 26548»
«حديث ضعيف قال النووي فيه محمد بن إسحاق وهو مدلس وقد عنعن»
«نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 249)»
«حديث ضعيف قال النووي فيه محمد بن إسحاق وهو مدلس وقد عنعن»
«نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 249)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق