سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
21. باب الحث على إخراج الصدقة وبيان قسمتها
باب صدقہ دینے کی ترغیب اور اس کی تقسیم کا طریقہ
ترقیم العلمیہ : 2038 ترقیم الرسالہ : -- 2063
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْعَثُ إِلَى قَوْمٍ جَيْشًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْبِسْ جَيْشَكَ فَأَنَا لَكَ بِإِسْلامِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ، وَكَتَبْتُ إِلَى قَوْمِي فَجَاءَ إِسْلامُهُمْ وَطَاعَتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَخَا صُدَاءٍ الْمُطَاعُ فِي قَوْمِهِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَهَدَاهُمْ، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَرْضَ فِي الصَّدَقَاتِ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلا غَيْرِهِ حَتَّى جَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ تِلْكَ الأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ" .
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میری قوم کی طرف ایک لشکر روانہ کرنے والے تھے، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ اپنے لشکر کو روک لیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضمانت دیتا ہوں کہ وہ لوگ اسلام قبول کر لیں گے اور فرمان برداری بھی کریں گے، میں اپنی قوم کو خط لکھتا ہوں، وہ لوگ اسلام قبول کرتے ہوئے اور فرمان برداری کرتے ہوئے آ جائیں گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے صداء قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص! جس کی قوم اس کی بات مانتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ”نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر احسان کیا ہے، انہیں ہدایت نصیب کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زکوٰۃ کی رقم مانگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کے بارے میں کسی بھی نبی یا کسی بھی دوسرے شخص کے فیصلے سے اس وقت تک راضی نہیں ہوتا، جب تک وہ شخص اس زکوٰۃ کو آٹھ اجزاء میں تقسیم نہ کر دے، اگر تم ان اجزاء کے اہل ہو، تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 2063]
ترقیم العلمیہ: 2038
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 1630، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7827، 13245، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2063، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3011»
«قال الشيخ الألباني: ضعيف، اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں»
«قال الشيخ الألباني: ضعيف، اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2063 in Urdu
زياد بن نعيم الحضرمي ← زياد بن الحارث الصدائي