سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
21. باب فرض الحج وكم مرة حج النبى صلى الله عليه وسلم
باب: حج کی فرضیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج کیا؟
ترقیم العلمیہ : 2671 ترقیم الرسالہ : -- 2708
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِي حَامِدٍ صَاحِبُ بَيْتِ الْمَالِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي ، نا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدْرٌ، قَالَ: فَهَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي إِذَا لَقِيتَهُمْ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرَأَ إِلَى اللَّهِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بَرَاءٌ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ عَلَيْهِ شَحْنَاءُ سَفَرٍ وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ يَتَخَطَّى حَتَّى وَرِكِ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَجْلِسُ أَحَدُنَا فِي الصَّلاةِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْلامُ؟ قَالَ: الإِسْلامُ أَنْ تَشَهَّدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَتَتِمَّ الْوُضُوءَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، قَالَ: فَإِنْ فَعَلْتُ هَذَا فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ"، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ"، فَطَلَبْنَاهُ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ، فَخُذُوا عَنْهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شُبِّهَ عَلَيَّ مُنْذُ أَتَانِي قَبْلَ مَرَّتِي هَذِهِ وَمَا عَرَفْتُهُ حَتَّى وَلَّى" . إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”کیا ان میں سے کوئی شخص ہمارے پاس بھی موجود ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”جی نہیں!“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو، تو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ عبداللہ بن عمر اللہ کی بارگاہ میں تم سے لاتعلق ہونے کی گزارش کرتا ہے اور تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ (پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) یہ حدیث بیان کی: میں نے سیدنا عمر بن خطاب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگوں کی موجودگی میں بیٹھے ہوئے تھے، اس دوران ایک شخص وہاں آیا، اس پر سفر کی کوئی علامت نہیں تھی اور وہ شہر کا رہنے والا بھی نہ تھا، وہ لوگوں کے بیچ سے گزرتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھ گیا، بالکل اسی طرح، جس طرح ہم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران بیٹھتا ہے، پھر اس نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زانوؤں پر رکھا اور عرض کی: ”اے محمد! اسلام کیا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور تم حج کرو اور تم عمرہ کرو اور تم غسل جنابت کرو اور تم وضو مکمل کرو اور تم رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے دریافت کیا: ”اگر میں ایسا کروں، تو کیا میں مسلمان ہو جاؤں گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ وہ بولا: ”آپ نے ٹھیک فرمایا ہے۔“ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث بیان کی، اس حدیث کے آخر میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔“ (راوی کہتے ہیں) ہم اس کی تلاش میں نکلے، لیکن ہم اسے نہیں پا سکے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو، یہ کون شخص تھا؟ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے، جو تمہارے پاس آئے تھے، تاکہ تمہیں تمہاری دین کی تعلیم دیں، تو تم اسے حاصل کر لو۔“ ”اس ذات کی قسم، جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ جب سے میرے پاس آ رہے ہیں، آج پہلی مرتبہ مجھے انہیں پہچاننے میں دقت ہوئی اور میں نے انہیں اس وقت پہچانا، جب یہ چلے گئے۔“ اس حدیث کی سند ثابت ہے اور صحیح ہے، امام مسلم نے اسے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2708]
ترقیم العلمیہ: 2671
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 8،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1، 2504، بدون ترقيم، 3065، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 168، 173،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5007، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5852، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4695،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2610، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 63، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2708، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 186»
«قال الدارقطني: هذا إسناد ثابت أخرجه مسلم بهذا الإسناد، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (10 / 106)»
«قال الدارقطني: هذا إسناد ثابت أخرجه مسلم بهذا الإسناد، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (10 / 106)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي