سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2920 ترقیم الرسالہ : -- 2956
ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" اسْتَعَارَ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَاعًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقُلْتُ: مَضْمُونَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: مَضْمُونَةٌ، فَضَاعَ بَعْضُهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتَ غَرِمْتُهَا، قَالَ: لا، أَلا إِنَّ فِي قَلْبِي مِنَ الإِسْلامِ غَيْرَ مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ" ،.
امیہ بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے لوہے کی کچھ زرہیں ادھار لیں، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ ضمانت والی ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ضمانت والی ہیں۔“ ان میں سے بعض ضائع ہو گئیں، تو نبی نے ان سے فرمایا: ”تم چاہو تو میں تمہیں اس کا تاوان دے دیتا ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں، اب میرے دل میں اسلام آ چکا ہے اور یہ دل ہر چیز سے زیادہ (سما چکا ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2956]
ترقیم العلمیہ: 2920
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 11، 12، 13، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2955، 2956، 2957، 2958، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15535»
«قال ابن حجر: قد اختلف على عبد العزيز بن رفيع في سنده . الإصابة في تمييز الصحابة: (8 / 56)»
«قال ابن حجر: قد اختلف على عبد العزيز بن رفيع في سنده . الإصابة في تمييز الصحابة: (8 / 56)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
أمية بن صفوان الأكبر ← صفوان بن أمية القرشي