سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2921 ترقیم الرسالہ : -- 2957
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلاحٍ؟"، قَالَ: عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا؟ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ.
عطاء نے عبداللہ بن صفوان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے صفوان! کیا تمہارے پاس کچھ اسلحہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”آپ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں یا غصب کریں گے؟“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2957]
ترقیم العلمیہ: 2921
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 11، 12، 13، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2955، 2956، 2957، 2958، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15535»
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← اسم مبهم