🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2944 ترقیم الرسالہ : -- 2976
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، نَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَأَنَا فِي تِبَاعَةٍ لِي هَكَذَا، قَالَ: أَبِيعُهَا، فَمَرَّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ تُفْلِحُوا، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ بِالْحِجَارَةِ وَقَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ وَعُرْقُوبَيْهِ وَهُوَ، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لا تُطِيعُوهُ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: هَذَا غُلامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ؟، قَالُوا: هَذَا عَمُّهُ عَبْدُ الْعُزَّى وَهُوَ أَبُو لَهَبٍ، فَلَمَّا ظَهَرَ الإِسْلامُ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ أَقْبَلْنَا فِي رَكْبٍ مِنَ الرَّبَذَةِ وَجَنُوبِ الرَّبَذَةِ حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ إِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟، قُلْنَا: مِنَ الرَّبَذَةِ وَجَنُوبِ الرَّبَذَةِ، قَالَ: وَمَعَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ، قَالَ: تَبِيعُونِي جَمَلَكُمْ هَذَا؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: بِكُمْ؟، قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَمَا اسْتَوْضَعْنَا شَيْئًا، وَقَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِرَأْسِ الْجَمَلِ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَتَوَارَى عَنَّا، فَتَلاوَمْنَا بَيْنَنَا، وَقُلْنَا: أَعْطَيْتُمْ جَمَلَكُمْ مَنْ لا تَعْرِفُونَهُ، فَقَالَتِ الظَّعِينَةُ: لا تَلاوَمُوا فَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ مَا كَانَ لِيَحْقَرَكُمْ، مَا رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ أَشْبَهَ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعِشَاءُ أَتَانَا رَجُلٌ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ، وَإِنَّهُ أَمَرَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ هَذَا حَتَّى تَشْبَعُوا وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا، قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ، وَهُوَ يَقُولُ: يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، فَقَالَ: أَلا لا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ" .
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مرتبہ زیارت کی ہے۔ ایک مرتبہ میں نے آپ کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا ہے۔ میں اپنے سامان کے ساتھ وہاں موجود تھا جو میں نے فروخت کرنے کے لیے وہاں رکھا ہوا تھا۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، تو آپ نے سرخ حلہ زیب تن کیا ہوا تھا اور آپ بلند آواز میں یہ ارشاد فرما رہے تھے: اے لوگو! لا إله إلا الله پڑھ لو، تو فلاح پا جاؤ گے۔ ایک شخص پتھر پکڑ کر آپ کے پیچھے جا رہا تھا، جس نے آپ کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ وہ شخص یہ کہتا جا رہا تھا: اے لوگو! ان کی بات نہ مانو کیونکہ یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ تو میں نے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ عبدالمطلب کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ہیں۔ میں نے دریافت کیا: یہ ان کے پیچھے جانے والا شخص جو انہیں پتھر مار رہا تھا، یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ان کا چچا عبدالعزیٰ ہے۔ (راوی کہتے ہیں) یہ ابولہب تھا۔ پھر جب اسلام غالب ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے، تو ہم ربدہ سے اور ربدہ کے جنوبی علاقوں سے کچھ سواروں کے ہمراہ آئے اور مدینہ منورہ کے قریب ہم نے پڑاؤ کیا۔ ہمارے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک صاحب ہمارے پاس تشریف لائے جنہوں نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔ انہوں نے سلام کیا، ہم نے انہیں جواب دیا۔ انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگ کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے جواب دیا: ربدہ سے اور ربدہ کے جنوبی علاقوں سے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سرخ اونٹ بھی تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا تم اپنے اونٹ فروخت کرو گے؟ تو ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے دریافت کیا: کتنے کے عوض؟ ہم نے کہا: کھجوروں کے اتنے اتنے صاع کے عوض۔ تو انہوں نے ہمیں کوئی کمی کرنے کے لیے نہیں کہا۔ پھر انہوں نے اونٹ کے سر کو پکڑا اور مدینہ کے اندر چلے گئے اور ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ تو ہم لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے کہا: تم لوگوں نے اپنا اونٹ ایک ایسے شخص کو دے دیا جس سے تم واقف ہی نہیں ہو۔ تو وہ عورت (جو ہمارے ساتھ تھی) بولی: تم ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو۔ میں نے ان صاحب کے چہرے میں ایک ایسی چیز دیکھی ہے (جس سے یہ ثابت ہوتا ہے) کہ یہ تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے۔ میں نے کسی بھی شخص کا چہرہ ایسا نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ چودھویں کے چاند سے مشابہت رکھتا ہو۔ پھر جب عشاء کا وقت ہوا، تو ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: السلام علیکم، میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں جو تمہارے پاس آیا ہوں۔ انہوں نے تمہیں یہ ہدایت کی ہے کہ تم ان کھجوروں کو سیر ہو کر کھاؤ اور پوری طرح سے ماپ بھی لو۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے انہیں سیر ہو کر کھایا اور پھر پوری طرح ماپ لیا۔ اگلے دن ہم مدینہ شہر میں داخل ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ارشاد فرما رہے تھے: دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے اور تم اس شخص پر خرچ کا آغاز کرو جو تمہارے زیر کفالت ہو، تمہاری والدہ، تمہارے والد، تمہاری بہن، تمہارا بھائی اور تمہارے درجہ بدرجہ قریبی عزیز۔ تو ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ بنو ثعلبہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کیا تھا، آپ ہمیں ان سے بدلہ دلوا دیں۔ تو نبی نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھ لیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: باپ اپنی اولاد کی طرف سے تاوان ادا نہیں کرے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2976]
ترقیم العلمیہ: 2944
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 159، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3341، 6562، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 4242، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2534، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2670، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2976، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 8175»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طارق بن عبد الله المحاربيصحابي
👤←👥جامع بن شداد المحاربي، أبو صخرة
Newجامع بن شداد المحاربي ← طارق بن عبد الله المحاربي
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي الجعد الأشجعي
Newيزيد بن أبي الجعد الأشجعي ← جامع بن شداد المحاربي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← يزيد بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥أحمد بن محمد القطان، أبو سعيد
Newأحمد بن محمد القطان ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة
👤←👥القاسم بن إسماعيل الضبي، أبو عبيد
Newالقاسم بن إسماعيل الضبي ← أحمد بن محمد القطان
ثقة