سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب الجعالة
باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3006 ترقیم الرسالہ : -- 3039
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الأَحْوَلُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ، فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ، فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ بِالشَّاءِ، فَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا مَرَرْنَا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَانْطَلَقْتُ فَرَقَيْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، هَذَا صَحِيحٌ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ سِيدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ الْبَرَاءِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کسی عرب قبیلے کے پاس سے گزرے، جن کے ایک فرد کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا تھا، کہا: ”کیا تم میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے؟“ تو ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے، انہوں نے سردار پر دم کیا، اس شرط پر کہ بکریاں دی جائیں گی، پھر وہ ان بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، تو انہوں نے دریافت کیا: ”آپ نے کس چیز کے ذریعے دم کیا تھا؟“ تو انہوں نے بتایا کہ ”میں نے سورہ فاتحہ کے ذریعے دم کیا تھا۔“ تو ان ساتھیوں نے کہا: ”آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے؟“ ان ساتھیوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا، جو انہیں معاوضے کے طور پر ملا تھا، جب یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”یا رسول اللہ! اس نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔“ تو ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”یا رسول اللہ! ہم ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے، جن کے ایک فرد کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا تھا، میں گیا اور میں نے معاوضے کے طور پر بکریاں (وصول کرنے کی) شرط پر اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر دم کر دیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو، ان میں سب سے زیادہ حق دار اللہ کی کتاب ہے۔“ یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا بن مضارب کے حوالے سے ابومعشر سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3039]
ترقیم العلمیہ: 3006
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5737، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5146، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2051، 11791، 14513، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3038، 3039»
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي