سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3167 ترقیم الرسالہ : -- 3206
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، قَالا: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ: أَعْقِلُ مَنْ لا أَكَلَ وَلا شَرِبَ، وَلا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ فِيهِ غُرَّةٌ، عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے (کو ضائع کر دینے) کا تاوان ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر کی ادائیگی مقرر کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فریق کے خلاف فیصلہ دیا تھا، ان کے ایک فرد نے کہا: ”کیا میں اس کی دیت ادا کروں؟ جس نے کچھ کھایا نہیں، کچھ پیا نہیں، کوئی آواز نہیں نکالی، وہ رویا نہیں، اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو شاعروں کی طرح گفتگو کر رہا ہے، اس بارے میں ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر تاوان کے طور پر ادا کرنا ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3206]
ترقیم العلمیہ: 3167
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5758، 5759، 5760، 6740، 6904، 6909، 6910، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1681،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6017،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4821، 4822، 4823، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4576، 4579، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1410، 2111،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2639، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3206، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7337»
«قال الدارقطني: وقال إسماعيل بن جعفر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة مرسلا وهو صحيح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 294)»
«قال الدارقطني: وقال إسماعيل بن جعفر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة مرسلا وهو صحيح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 294)»
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي