سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3322 ترقیم الرسالہ : -- 3368
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ . ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، نَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، جَمِيعًا عَنْ حَجَّاجٍ . ح وثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ طَيْفُورٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا الْهَرَوِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ، نَا الْحِمَّانِيُّ ، نَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ مِثْلَهُ. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَاخْتَلَفَ عَنْهُ فَرَوَاهُ عَنْهُ سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ بِمُوَافَقَةِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، وَعَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَخَالَفَهُ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، فَرَوَاهُ عَنْهُ بِمُوَافَقَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرِ وَمَنْ تَابَعَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا، لَمْ يُفَسِّرْهَا فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَنِ الْحَجَّاجِ كَمَا تَرَى، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الصَّحِيحُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا كَمَا رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصٌ، وَأَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، وَأَبُو خَالِدٍ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فِي رِوَايَةِ أَبِي هِشَامٍ عَنْهُ، لَيْسَ فِيهِ تَفْسِيرُ الأَخْمَاسِ لاتِّفَاقِهِمْ عَلَى ذَلِكَ وَكَثْرَةِ عَدَدِهِمْ، وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ. وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْحَجَّاجُ رُبَّمَا كَانَ يُفَسِّرُ الأَخْمَاسَ بِرَأْيِهِ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَتَوَهَّمُ السَّامِعُ أَنَّ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ ذَلِكَ فِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ كَلامِ الْحَجَّاجِ، وَيُقَوِّي هَذَا أَيْضًا اخْتِلافُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَبْدِ الرَّحِيمِ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيِّ عَنْهُ فِيمَا ذَكَرْنَا فِي أَحَادِيثِهِمْ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأُمَوِيَّ حَفِظَ عَنْهُ: عِشْرِينَ بَنِي لَبُونٍ مَكَانَ الْحِقَاقِ، وَأَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ وَعَبْدَ الرَّحِيمِ حَفِظَا عَنْهُ: عِشْرِينَ حِقَّةً مَكَانَ بَنِي لَبُونٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَوَجْهٌ آخَرُ وَهُوَ: أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ أَقَاوِيلُ مُخْتَلِفَةٌ، لا نَعْلَمُ رُوِيَ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِي ذَلِكَ ذِكْرُ بَنِي مَخَاضٍ إِلا فِي حَدِيثِ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ هَذَا، فَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَوَى إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ ثَلاثِينَ حِقَّةً، وَثَلاثِينَ جَذَعَةً، وَعِشْرِينَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ، ثَلاثُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَثَلاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَثَلاثُونَ حِقَّةً، وَعَشْرٌ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ" ،.
محمد بن قاسم زکریا نے ہشام بن یونس کے حوالے سے ابومالک جنبی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے، محمد بن قاسم بن زکریا نے ابوسعید اشج کے حوالے سے ابوخالد احمر کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ان سب حضرات نے حجاج کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اسماعیل بن محمد صفار نے سعدان بن نصر کے حوالے سے ابومعاویہ کے حوالے سے حجاج سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ ابوبکر نیشاپوری نے محمد بن یزید طیفور کے حوالے سے ابومعاویہ کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ احمد بن نجدہ نے حمانی کے حوالے سے حفص اور ابومعاویہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے۔ اس روایت کو یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے حجاج کے حوالے سے نقل کیا ہے، پھر ان سے نقل کرنے کے حوالے سے اختلاف کیا گیا ہے۔ سریح بن یونس نے عبدالرحیم اور عبدالواحد بن زیاد کی موافقت کی ہے۔ ابوہشام رفاعی نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے، انہوں نے اسے ابومعاویہ ضریر اور ان کی متابعت کرنے والوں کی موافقت میں نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت (میں اونٹوں کی ادائیگی) پانچ حصوں میں مقرر کی ہے، ان حضرات نے اپنی روایت میں اس کی وضاحت نقل نہیں کی۔ تو حجاج کے حوالے سے نقل کرنے میں اس روایت میں اختلاف ہوا ہے، جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے، لہٰذا یہاں یہ امکان ہو سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر یہ بات ثابت ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں (اونٹوں کی ادائیگی) پانچ اقسام میں مقرر کی ہے، جیسا کہ ابومعاویہ، حفص، ابومالک جنبی، ابوخالد، ابن ابی زائدہ نے ابوہشام کی ان کے حوالے سے نقل کردہ روایت میں ان پانچ اقسام کی وضاحت نقل نہیں کی ہے، ان سب حضرات پر اس پر اتفاق ہے، ان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور یہ سب ثقہ بھی ہیں۔ یہاں یہ امکان بھی ہو سکتا ہے کہ حجاج نامی راوی بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنے کے بعد اپنی رائے کے طور پر ان پانچ اقسام کی وضاحت کرتے ہوں، جس کے نتیجے میں سننے والے کو یہ وہم ہوا کہ شاید یہ بھی حدیث نبوی کا حصہ ہے، حالانکہ وہ الفاظ حدیث کا حصہ نہ ہوں بلکہ وہ حجاج کا کلام ہوں۔ اس احتمال کو اس بات سے تقویت حاصل ہوتی ہے کہ عبدالواحد بن زیاد، عبدالرحیم اور یحییٰ بن سعید اموی نے ان کے حوالے سے روایت نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے، جیسا کہ ان حضرات کی روایات کو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ یحییٰ بن سعید اموی نے ان کے حوالے سے بیس حقہ کی جگہ بیس بنو لبون کا ذکر کیا ہے، جبکہ عبدالواحد اور عبدالرحیم نے بنو لبون کی جگہ بیس حقہ کے الفاظ نقل کیے ہیں، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، مہاجرین انصار سے تعلق رکھنے والی صحابہ کرام کی ایک جماعت کے بارے میں قتل خطا کی دیت کے مسئلے میں مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں، اور ہمارے علم کے مطابق ان میں سے کسی ایک کے حوالے سے بھی اس میں بنو مخاض کا ذکر نہیں ہے، ان کا تذکرہ خشف بن مالک کی اس روایت میں ہے۔ جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایت کا تعلق ہے، تو اسے اسحاق بن یحییٰ بن ولید بن عبادہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے: قتل خطا کی دیت میں تیس حقہ ہوں گے، تیس جذعہ ہوں گے، بیس بنات لبون ہوں گی اور بیس نر بنو لبون ہوں گے۔ یہ حدیث مرسل ہے، اسحاق بن یحییٰ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا ہے۔ عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو قتل خطا کے طور پر قتل کیا جائے، اس کی دیت ایک سو اونٹ ہو گی، جن میں تیس بنات مخاض ہوں گی، تیس بنات لبون ہوں گی، تیس حقہ ہوں گی اور دس نر بنو لبون ہوں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3368]
ترقیم العلمیہ: 3322
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه النسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 4806، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6977، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1386، 1386 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2412، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2631،والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3361، 3362، 3363، 3364، 3365، 3366، 3367، 3368، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3709»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي