🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب أحكام النكاح
باب: نکاح کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3457 ترقیم الرسالہ : -- 3511
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، فَنِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ ابْنَتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، قَالَ: وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لامْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَلْعَتِهَا: أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ، وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، كَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِبْضَاعِ، قَالَتْ: وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشْرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا، فَإِذَا حَمَلَتْ وَضَعَتْ وَمَرَّتْ لَيَالِي بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا، فَتَقُولُ لَهُمْ: قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ، وَقَدْ وَلَدَتْهُ وَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلانُ، فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ فَيُلْحَقَ بِهِ وَلَدُهَا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ مِنْهُ الرَّجُلُ، وَنِكَاحٌ رَابِعٌ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا، كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُنْ عَلَمًا، فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جَمَعُوا لَهَا وَدَعَوْا الْقَافَةَ لَهُمْ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا فَالْتَاطَهُ وَدَعَاهُ ابْنَهُ لا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَاكَ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ كُلِّهِ إِلا نِكَاحَ أَهْلِ الإِسْلامِ الْيَوْمَ" ،.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طریقوں سے ہوتے تھے۔ ایک نکاح کا طریقہ وہ تھا جو آج کل لوگوں میں رائج ہے، آدمی کسی دوسرے شخص کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجتا تھا اور اسے مہر دیتا تھا اور اس کے ساتھ نکاح کر لیتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نکاح کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے، جب وہ اس شخص سے طلاق لینے کے بعد پاک ہو جاتی تھی، یہ کہتا تھا: تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو اور اس کے ساتھ صحبت کر لو۔ وہ شخص اس دوران اپنی بیوی سے الگ رہتا تھا، اور اس کی بیوی کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہیں کرتا تھا جب تک اس دوسرے شخص سے اس عورت کا حمل ظاہر نہ ہو جاتا تھا، جس کے ساتھ اس عورت نے صحبت کی تھی۔ جب عورت کا حمل ظاہر ہو جاتا تھا، تو اس کا اصل شوہر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا تھا اگر اسے اس کی خواہش ہوتی تھی۔ وہ شخص اس لیے کرتا تھا تاکہ اس کی اولاد کسی بڑے خاندان کے فرد کا نطفہ ہو۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع کا نام دیا جاتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نکاح کا تیسرا طریقہ یہ تھا کہ کچھ لوگ اکٹھے ہوتے، ان کی تعداد دس سے کم ہوتی تھی۔ وہ سب کسی عورت کے پاس جاتے اور وہ سب اس کے ساتھ صحبت کرتے۔ پھر وہ حاملہ ہو جاتی اور آخر کار بچے کو جنم دیتی تھی۔ بچے کو جنم دینے کے کچھ دن بعد وہ ان سب کو بلواتی تھی۔ ان سب میں سے کوئی بھی شخص آنے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ جب وہ لوگ اس عورت کے پاس اکٹھے ہوتے، تو وہ عورت ان سے کہتی: تم لوگ جانتے ہو کہ تم نے کیا کیا تھا؟ میں نے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اے فلاں! یہ تمہارا بیٹا ہے۔ وہ عورت ان افراد میں سے جس کا چاہتی، اس شخص کا نام لیتی، تو اس کے بچے کا نسب اس شخص کے ساتھ لاحق کر دیا جاتا تھا۔ وہ شخص اب اس بچے کا انکار نہیں کر سکتا تھا۔ چوتھا طریقہ یہ تھا کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر کسی عورت کے پاس جاتے۔ وہ عورت اپنے ہاں آنے والے کسی شخص کو روک نہیں سکتی تھی۔ یہ جسم فروش عورتیں ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنے دروازوں پر مخصوص جھنڈے لگائے ہوئے ہوتے تھے جو ان (کے پیشے) کا علامتی نشان ہوتا تھا۔ جو شخص ان کے ہاں جانا چاہتا، وہ چلا جاتا تھا۔ جب ان میں سے کوئی ایک عورت حاملہ ہوتی اور بچے کو جنم دیتی، تو سب لوگوں کو اس کے پاس اکٹھا کیا جاتا تھا۔ پھر کسی قیافہ شناس کو بلایا جاتا تھا۔ وہ اس عورت کے بچے کو اس شخص کے ساتھ لاحق کر دیتا، جس کے ساتھ وہ بچہ مشابہت رکھتا تھا۔ پھر لوگ اس بچے کو اس شخص کے بیٹے کے طور پر بلاتے اور وہ شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3511]
ترقیم العلمیہ: 3457
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5127، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2272، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13753، 14185، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3511، 3512»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبيد الله
Newأحمد بن عبد الرحمن القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن محمد الفقيه، أبو بكر
Newعبد الله بن محمد الفقيه ← أحمد بن عبد الرحمن القرشي
ثقة حافظ
Sunan al-Daraqutni Hadith 3511 in Urdu