سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب
باب
ترقیم العلمیہ : 3616 ترقیم الرسالہ : -- 3672
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ غُرَّ بِهَا رَجُلٌ بِهَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، وَصَدَاقُ الرَّجُلِ عَلَى وَلِيِّهَا الَّذِي غَرَّهُ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس عورت کی شادی کسی شخص سے دھوکے کے ساتھ کر دی جائے اور اس عورت کو جنون، جذام، یا برص ہو، تو عورت کو مہر ملے گا، کیونکہ اس مرد نے اس کے ساتھ صحبت کی ہے، اور مرد مہر کی وہ رقم عورت کے ولی سے وصول کرے گا، جس نے دھوکے کے ساتھ اس کی شادی کروائی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3672]
ترقیم العلمیہ: 3616
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1045، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 818، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13886،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3672، 3673، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10679، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16550»
الرواة الحديث:
سعيد بن المسيب القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي