الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
75. باب الوضوء والتيمم من آنية المشركين
باب: مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
ترقیم العلمیہ : 760 ترقیم الرسالہ : -- 771
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، نا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ فَنَامُوا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ لا يُوقِظُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ فَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ:" ارْتَحِلُوا"، فَسَارَ شَيْئًا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نزل فَصَلَّى بِنَا، وَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا فُلانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ الصَّعِيدَ ثُمَّ صَلَّى، فَعَجَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ أَطْلُبُ الْمَاءَ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، قُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: إِيهَاتٌ إِيهَاتٌ لا مَاءَ، قُلْنَا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللَّهِ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِها شَيْئًا حَتَّى اسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ، قَالَ: فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَجَّ فِي الْعَزْلاوَيْنِ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلا حَتَّى رَوِينَا، وَمَلأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، وَغَسَلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسُقْ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَتَصَدَّعُ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ لَنَا:" هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ"، فَجَمَعَ لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَرَّ لَهَا صُرَّةً، فَقَالَ:" اذْهَبِي فَأَطْعِمِي عِيَالَكَ وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا"، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا، قَالَتْ: لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيُّ كَمَا زَعَمُوا، فَهَدَى اللَّهُ ذَلِكَ الصَّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، وَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ، عَنْ سَلْمِ بْنِ زُرَيْرٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، یہاں تک کہ صبح کا وقت قریب آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ لوگوں کی آنکھ لگ گئی تو وہ سو گئے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا۔ سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نیند سے بیدار نہیں کرتا تھا جب تک آپ خود بیدار نہ ہوتے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہو گیا ہے۔ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے بیٹھ گئے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہو گیا ہے۔ تو آپ وہاں سے روانہ ہوئے۔ آپ نے کچھ سفر کیا، یہاں تک کہ سورج اچھی طرح چمکدار ہو گیا۔ تو آپ نے پڑاؤ کیا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ حاضرین میں سے ایک شخص الگ رہا۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہ کی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو آپ نے دریافت کیا: ”تمہیں کس چیز نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ: ”وہ مٹی کے ذریعہ تیمم کر کے نماز ادا کر لے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کے ساتھ مجھے آگے بھیج دیا تاکہ ہم پانی تلاش کریں، کیونکہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ہم سفر کر رہے تھے، وہاں ہمیں ایک عورت نظر آئی جس کے پاس دو مشکیزے تھے۔ ہم نے اس سے دریافت کیا: ”پانی کہاں ہے؟“ اس نے بتایا: ”یہاں کہیں پانی نہیں ہے۔“ ہم نے دریافت کیا: ”ہمارے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”ایک دن اور ایک رات کا۔“ ہم نے کہا: ”تم اللہ کے رسول کے پاس چلو۔“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول کہاں ہیں؟“ تو ہم اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہی بات بتائی جو اس نے ہمیں بتائی تھی، تاہم اس نے یہ اضافی بات بتائی کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مشکیزوں کے بارے میں حکم دیا، جن کا منہ نیچے کی طرف سے کھول دیا گیا۔ تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس میں سے پانی پیا، یہاں تک کہ ہم سیراب ہو گئے۔ ہم نے اپنے پاس موجود ہر برتن اور پیالے کو بھر لیا۔ ہم نے اپنے ساتھی کو غسل کے لیے پانی دیا، البتہ ہم نے اپنے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے لے آؤ۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے روٹی کے ٹکڑے، کھجور وغیرہ اکٹھے کروائے اور اسے ایک توڑا باندھ دیا اور ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلاؤ، اور یہ بات جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی۔“ جب وہ اپنے گھر گئی تو اس نے بتایا: ”میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر وہ نبی ہے، جیسا کہ لوگوں نے بیان کیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت کی وجہ سے اللہ نے اس کے قبیلے والوں کو ہدایت نصیب کی۔ وہ عورت بھی مسلمان ہو گئی اور اس کے قبیلے والے بھی مسلمان ہو گئے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو ابوالولید کے حوالے سے اس سند کے ہمراہ نقل کیا ہے، جبکہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس روایت کو احمد بن سعید الدارمی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 771]
ترقیم العلمیہ: 760
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، 1302، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 771، 772، 773، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5964، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي