🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. بَابُ الْوُضُوءِ وَالتَّيَمُّمِ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ
باب: مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 760 ترقیم الرسالہ : -- 771
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، نا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ فَنَامُوا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ لا يُوقِظُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ فَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ:" ارْتَحِلُوا"، فَسَارَ شَيْئًا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نزل فَصَلَّى بِنَا، وَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا فُلانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ الصَّعِيدَ ثُمَّ صَلَّى، فَعَجَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ أَطْلُبُ الْمَاءَ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، قُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: إِيهَاتٌ إِيهَاتٌ لا مَاءَ، قُلْنَا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللَّهِ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِها شَيْئًا حَتَّى اسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ، قَالَ: فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَجَّ فِي الْعَزْلاوَيْنِ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلا حَتَّى رَوِينَا، وَمَلأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، وَغَسَلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسُقْ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَتَصَدَّعُ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ لَنَا:" هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ"، فَجَمَعَ لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَرَّ لَهَا صُرَّةً، فَقَالَ:" اذْهَبِي فَأَطْعِمِي عِيَالَكَ وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا"، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا، قَالَتْ: لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيُّ كَمَا زَعَمُوا، فَهَدَى اللَّهُ ذَلِكَ الصَّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، وَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ، عَنْ سَلْمِ بْنِ زُرَيْرٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، یہاں تک کہ صبح کا وقت قریب آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ لوگوں کی آنکھ لگ گئی تو وہ سو گئے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا۔ سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نیند سے بیدار نہیں کرتا تھا جب تک آپ خود بیدار نہ ہوتے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہو گیا ہے۔ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے بیٹھ گئے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہو گیا ہے۔ تو آپ وہاں سے روانہ ہوئے۔ آپ نے کچھ سفر کیا، یہاں تک کہ سورج اچھی طرح چمکدار ہو گیا۔ تو آپ نے پڑاؤ کیا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ حاضرین میں سے ایک شخص الگ رہا۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہ کی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو آپ نے دریافت کیا: تمہیں کس چیز نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ: وہ مٹی کے ذریعہ تیمم کر کے نماز ادا کر لے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کے ساتھ مجھے آگے بھیج دیا تاکہ ہم پانی تلاش کریں، کیونکہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ہم سفر کر رہے تھے، وہاں ہمیں ایک عورت نظر آئی جس کے پاس دو مشکیزے تھے۔ ہم نے اس سے دریافت کیا: پانی کہاں ہے؟ اس نے بتایا: یہاں کہیں پانی نہیں ہے۔ ہم نے دریافت کیا: ہمارے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس نے جواب دیا: ایک دن اور ایک رات کا۔ ہم نے کہا: تم اللہ کے رسول کے پاس چلو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ تو ہم اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہی بات بتائی جو اس نے ہمیں بتائی تھی، تاہم اس نے یہ اضافی بات بتائی کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مشکیزوں کے بارے میں حکم دیا، جن کا منہ نیچے کی طرف سے کھول دیا گیا۔ تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس میں سے پانی پیا، یہاں تک کہ ہم سیراب ہو گئے۔ ہم نے اپنے پاس موجود ہر برتن اور پیالے کو بھر لیا۔ ہم نے اپنے ساتھی کو غسل کے لیے پانی دیا، البتہ ہم نے اپنے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے لے آؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے روٹی کے ٹکڑے، کھجور وغیرہ اکٹھے کروائے اور اسے ایک توڑا باندھ دیا اور ارشاد فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلاؤ، اور یہ بات جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی۔ جب وہ اپنے گھر گئی تو اس نے بتایا: میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر وہ نبی ہے، جیسا کہ لوگوں نے بیان کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت کی وجہ سے اللہ نے اس کے قبیلے والوں کو ہدایت نصیب کی۔ وہ عورت بھی مسلمان ہو گئی اور اس کے قبیلے والے بھی مسلمان ہو گئے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو ابوالولید کے حوالے سے اس سند کے ہمراہ نقل کیا ہے، جبکہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس روایت کو احمد بن سعید الدارمی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 771]
ترقیم العلمیہ: 760
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، 1302، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 771، 772، 773، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5964، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 761 ترقیم الرسالہ : -- 772
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ ، نا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَارَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلا بِحَرِّ الشَّمْسِ، فَاسْتَيْقَظَ مِنَّا سِتَّةٌ قَدْ نَسِيتُ أَسْمَاءَهُمْ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ احْتَبَسَهُ فِي حَاجَتِهِ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ التَّكْبِيرَ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ صَلاتُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تَذْهَبْ صَلاتُكُمُ ارْتَحِلُوا مِنْ هَذَا الْمَكَانِ"، فَارْتَحَلَ فَسَارَ قَرِيبًا، ثُمَّ نزل فَصَلَّى، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَتَمَّ صَلاتَكُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلانًا لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا، فَقَالَ لَهُ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، قَالَ:" فَتَيَمَّمِ الصَّعِيدَ وَصَلِّهِ فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ"، وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا فِي طَلَبِ الْمَاءِ، وَمَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا إِدَاوَةٌ مثل أُذُنَيِ الأَرْنَبِ بَيْنَ جِلْدِهِ وَثَوْبِهِ، إِذَا عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرْنَاهُ بِالْمَاءِ، فَانْطَلَقَ حَتَّى ارْتَفَعَ عَلَيْهِ النَّهَارُ وَلَمْ يَجِدْ مَاءً فَإِذَا شَخْصٌ، قَالَ عَلِيٌّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَكَانَكُمْ حَتَّى نَنْظُرَ مَا هَذَا، قَالَ: فَإِذَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ، فَقِيلَ لَهَا: يَا أَمَةَ اللَّهِ أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: لا مَاءَ وَاللَّهِ لَكُمُ اسْتَقَيْتُ أَمْسِ، فَسِرْتُ نَهَارِي وَلَيْلِي جَمِيعًا وَقَدْ أَصْبَحْنَا إِلَى هَذِهِ السَّاعَةِ، قَالُوا لَهَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَجْنُونُ قُرَيْشٍ؟ قَالُوا: إِنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، وَلَكِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا هَؤُلاءِ دَعُونِي فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتُ صِبْيَةً لِي صِغَارًا فِي غَنِيمَةٍ قَدْ خَشِيتُ أَنْ لا أُدْرِكَهُمْ حَتَّى يَمُوتَ بَعْضُهُمْ مِنَ الْعَطَشِ، فَلَمْ يُمَلِّكُوهَا مِنْ نَفْسِهَا شَيْئًا حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، فَأَمَرَ بِالْبَعِيرِ فَأُنِيخَ ثُمَّ حَلَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلاهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ عَظِيمٍ فَمَلأَهُ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى الْجُنُبِ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ"، قَالُوا: أَيْمُ اللَّهِ مَا تَرَكْنَا مِنْ إِدَاوَةٍ وَلا قِرْبَةِ مَاءٍ وَلا إِنَاءٍ إِلا مَلأَهُ مِنَ الْمَاءِ وَهِيَ تَنْظُرُ ثُمَّ شَدَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلاهَا وَبَعَثَ بِالْبَعِيرِ، وَقَالَ:" يَا هَذِهِ دُونَكِ مَاءَكِ فَوَاللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنِ اللَّهِ زَادَ فِيهِ مَا نَقَصَ مِنْ مَائِكِ قَطْرَةٌ"، وَدَعَا لَهَا بِكِسَاءٍ فَبُسِطَ، ثُمَّ قَالَ لَنَا:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَأْتِ بِهِ"، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِخُلُقِ النَّعْلِ، وَبِخُلُقِ الثَّوْبِ، وَالْقَبْضَةِ مِنَ الشَّعِيرِ، وَالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ، وَالْفَلْقَةِ مِنَ الْخُبْزِ حَتَّى جَمَعَ لَهَا ذَلِكَ، ثُمَّ أَوْكَاهُ لَهَا فَسَأَلَهَا عَنْ قَوْمِهَا فَأَخْبَرَتْهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ حَتَّى أَتَتْ قَوْمَهَا، قَالُوا: مَا حَبَسَكِ؟ قَالَتْ: أَخَذَنِي مَجْنُونُ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ إِنَّهُ لأَحَدُ الرَّجُلَيْنِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ أَسْحَرَ مَا بَيْنَ هَذِهِ، وَهَذِهِ تَعْنِي السَّمَاءَ وَالأَرْضَ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، قَالَ: فَجَعَلَ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُغِيرُ عَلَى مَنْ حَوْلَهُمْ وَهُمْ آمِنُونَ، قَالَ: فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لِقَوْمِهَا: أَيْ قَوْمٍ وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا الرَّجُلَ إِلا قَدْ شَكَرَ لَكُمْ مَا أَخَذَ مِنْ مَائِكِمْ أَلا تَرَوْنَ يُغَارُ عَلَى مَنْ حَوْلَكُمْ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ لا يُغَارُ عَلَيْكُمْ هَلْ لَكُمْ فِي خَيْرٍ؟ قَالُوا: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنُسْلِمُ، قَالَ: فَجَاءَتْ تَسُوقُ بِثَلاثِينَ أَهْلَ بَيْتٍ حَتَّى بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمُوا .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر سفر کرتے رہے۔ پھر ہم نے رات کے وقت پڑاؤ کیا اور سو گئے، تو ہم سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے۔ ہم میں سے چھ لوگ بیدار ہوئے، ان کے نام میں بھول گیا ہوں۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنے سے منع کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ہو سکتا ہے اللہ نے کسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں ٹھہرایا ہو۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے رہے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔ لوگوں نے عرض کی: ہماری نماز قضا ہو گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری نماز رخصت نہیں ہوئی۔ تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔ پھر ہم لوگ روانہ ہوئے اور سفر کرتے رہے۔ ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور نماز ادا کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری نماز مکمل ہو گئی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں شخص نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا: تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟ اس نے عرض کیا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مٹی سے تیمم کر کے نماز ادا کر لو، جب تم پانی پر قادر ہو جاؤ گے تو غسل کر لینا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کی تلاش میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ ہم میں سے ہر ایک شخص کے پاس خرگوش کے کانوں جتنا برتن تھا، جو اس کے کپڑوں اور جسم کے درمیان تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس محسوس ہوئی تو ہم تیزی سے آگے بڑھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا۔ ایک شخص نظر آیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ یہاں ٹھہرو، میں دیکھتا ہوں کہ یہ کون ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت تھی جس کے پاس پانی کے دو مشکیزے تھے۔ اس سے دریافت کیا گیا: اے اللہ کی بندی! یہاں پانی کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: یہاں کوئی پانی نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں گزشتہ کل پانی کی تلاش میں نکلی تھی۔ میں نے پورا دن اور پوری رات سفر کیا ہے، اب یہ وقت آ گیا ہے۔ تو ان لوگوں نے کہا: تم اللہ کے رسول کے پاس چلو۔ تو اس نے کہا: اللہ کا رسول کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ کے رسول ہیں۔ اس نے کہا: جو مجنون ہیں جو قریش سے تعلق رکھتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ مجنون نہیں ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس عورت نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں اپنے چھوٹے بچوں اور بکریوں کے پاس چھوڑ کر آئی ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ ان میں سے کوئی ایک پیاس کی وجہ سے مر نہ جائے۔ لیکن ان لوگوں نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس کا اونٹ بٹھا دیا گیا۔ پھر اس کے مشکیزے کو اوپر کی طرف سے کھولا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا برتن منگوایا، اسے پانی سے بھر دیا، وہ جنبی شخص کو دیا گیا۔ آپ نے فرمایا: تم جاؤ اور غسل کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ہم نے وہاں موجود ہر برتن اور ہر مشکیزہ کو پانی سے بھر لیا۔ وہ عورت دیکھتی رہی۔ پھر اس کے مشکیزے کا منہ اوپر کر کے بند کر دیا گیا، پھر اونٹ کو کھڑا کر دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورت! یہ تمہارا پانی ہے۔ اللہ کی قسم! اللہ نے اس میں اضافہ کیا ہے، تمہارے پانی میں سے ایک قطرہ بھی کم نہیں ہوا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس عورت کے لیے ایک چادر لائی گئی۔ آپ نے فرمایا: جس شخص کے پاس جو بھی چیز ہو وہ لائے۔ کوئی شخص جوتا لے کر آیا، کوئی شخص کپڑا لے کر آیا، کوئی شخص مٹھی بھر جو لے آیا، کوئی شخص مٹھی بھر گندم لے آیا، یہاں تک کہ وہ سب کچھ اس کے لیے لایا گیا اور اسے باندھ کر دے دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کی قوم کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ عورت چلی گئی اور اپنی قوم میں چلی گئی۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: تم کہاں رہ گئی تھی؟ اس نے بتایا: مجھے قریش سے تعلق رکھنے والے مجنون نے پکڑ لیا تھا۔ اللہ کی قسم! اس میں ایک چیز ہے، یا تو وہ اس اور اس کے درمیان جادوگر ہے۔ اس عورت کی مراد آسمان اور زمین تھی: یا وہ واقعی ہی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے فوجی دستے اس کی قوم کے آس پاس لوگوں پر حملے کرتے رہے، لیکن وہ محفوظ لوگ رہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اے قوم! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال ہے کہ یہ صاحب تمہارے شکریہ کے طور پر ایسا کر رہے ہیں، جو انہوں نے تمہارا پانی استعمال کیا تھا۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تمہارے آس پاس کے لوگوں پر حملہ کیا جا رہا ہے اور تم لوگ محفوظ ہو، تم پر حملہ نہیں کیا جاتا؟ کیا تم لوگ بھلائی چاہتے ہو؟ لوگوں نے دریافت کیا: وہ کیا ہے؟ اس عورت نے کہا: ہم اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ تیس خاندانوں کو لے کر آئی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کر لی اور اسلام قبول کر لیا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 772]
ترقیم العلمیہ: 761
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، 1302، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 771، 772، 773، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5964، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 762 ترقیم الرسالہ : -- 773
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، نا عَوْفٌ الأَعْرَابِيُّ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، نا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَإِنَّا سَرَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةِ وَلا وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فُلانُ، مَا لَكَ لَمْ تُصَلِّ مَعَنَا؟"، قَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلا مَاءَ، فَقَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ"، وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا: وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي الإِنَاءِ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي أَفْوَاهِهِمَا وَأَوْكَأَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِيَ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا، فَسَقَى مَنْ سَقَى، وَاسْتَقَى مَنِ اسْتَقَى، وَآخَرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الرَّجُلَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنَ الْمَاءِ، فَقَالَ:" أَفْرِغْهُ عَلَيْكَ"، وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَصْنَعُ بِمَائِهَا، وَأَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا حِينَ أَقْلَعَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلأً مِمَّا كَانَتْ حَيْثُ ابْتَدَأَ فِيهَا، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَهُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے۔ ہم رات بھر چلتے رہے۔ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہم اس وقت سو گئے۔ اس وقت سونے سے زیادہ لطف انگیز چیز کوئی نہیں ہے۔ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کر دیا۔ انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے فلاں شخص! تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی اور پانی موجود نہیں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مٹی استعمال کرو، وہ تمہارے لیے بہتر ہو گی۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا، مشکیزوں کے منہ کے ذریعہ برتنوں میں پانی ڈالا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، برتن میں دوبارہ اس پانی کو ڈال دیا، پھر آپ نے وہ برتن پانی دوبارہ ان مشکیزوں میں ڈال دیا اور ان کا منہ اوپر سے بند کر دیا اور نیچے کی طرف سے کھول دیا۔ پھر لوگوں میں یہ اعلان کیا: وہ خود بھی پانی پی لیں اور اپنے جانوروں کو بھی پلا دیں۔ جس نے خود پینا تھا خود پی لیا، جس نے جانوروں کو پلانا تھا ان کو بھی پلا دیا۔ آخر میں اس شخص کو پانی دیا تھا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ اسے پانی کا ایک برتن دیا اور فرمایا: اسے اپنے جسم پر بہا لو۔ وہ عورت کھڑی ہوئی اور دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے। راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جب ان کے منہ کو بند کیا گیا تو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مشکیزے پہلے سے بھی زیادہ بھرے ہوئے ہیں جتنے آغاز میں تھے۔ انہوں نے باقی حدیث اسی کی مانند نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 773]
ترقیم العلمیہ: 762
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، 1302، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 771، 772، 773، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5964، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 763 ترقیم الرسالہ : -- 774
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فِي الرَّجُلِ يَكُونُ فِي السَّفَرِ فَتُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ وَمَعَهُ الْمَاءُ الْقَلِيلُ يَخَافُ أَنْ يَعْطَشَ، قَالَ:" يَتَيَمَّمُ وَلا يَغْتَسِلُ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ جو سفر کر رہا ہو، اسے جنابت لاحق ہو جائے اور اس کے پاس پانی بھی موجود نہ ہو، جس کی وجہ سے اسے پیاسے رہنے کا اندیشہ ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں کہ: وہ شخص تیمم کر لے گا، وہ غسل نہیں کرے گا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 774]
ترقیم العلمیہ: 763
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 774»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 764 ترقیم الرسالہ : -- 775
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَتَيَمَّمَ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ منقول ہے کہ ایک مرتبہ جنازہ لایا گیا، وہ اس وقت وضو کی حالت میں نہیں تھے۔ انہوں نے تیمم کر کے نماز جنازہ ادا کی۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 775]
ترقیم العلمیہ: 764
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 775»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 765 ترقیم الرسالہ : -- 776
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَعْدٍ ، نا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، نا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ:" كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدْ سَلَسَ مِنْهُ الْبَوْلُ، فَكَانَ يُدَارِي مَا غَلَبَهُ مِنْهُ فَلَمَّا غَلَبَهُ أَرْسَلَهُ، وَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ" .
خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو پیشاب کے قطرے خارج ہونے کی بیماری تھی اور وہ اس طرح نماز ادا کر لیتے تھے جب کہ قطرے خارج ہو رہے ہوتے تھے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 776]
ترقیم العلمیہ: 765
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1699، 1700، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 776، 777، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 582، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2120»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 766 ترقیم الرسالہ : -- 777
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ:" كَبِرَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ حَتَّى سَلَسَ مِنْهُ الْبَوْلُ، فَكَانَ يُدَارِيهِ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِذَا غَلَبَ عَلَيْهِ تَوَضَّأَ وَصَلَّى" .
سیدنا خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، پھر ان کے پیشاب کے قطرے خارج ہونے لگے۔ جہاں تک وہ کر سکتے تھے، انہوں نے روکنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ ان پر غالب آ گیا، انہوں نے وضو کر کے نماز ادا کر لی۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 777]
ترقیم العلمیہ: 766
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1699، 1700، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 776، 777، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 582، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2120»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 767 ترقیم الرسالہ : -- 778
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ:" لَوْ سَالَ عَلَى فَخِذِي مَا انْصَرَفْتُ" . قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي الْبَوْلَ إِذَا كَانَ مُبْتَلًى.
سعید بن مسیب فرماتے ہیں: اگر وہ میرے زانوں پر بہہ رہا ہو تو پھر میں نماز ختم نہیں کروں گا۔ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد پیشاب ہے، یعنی جب آدمی بیماری میں مبتلا ہو۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 778]
ترقیم العلمیہ: 767
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 778، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 613، 614»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں