🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. باب الوضوء والتيمم من آنية المشركين
باب: مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 761 ترقیم الرسالہ : -- 772
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ ، نا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَارَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلا بِحَرِّ الشَّمْسِ، فَاسْتَيْقَظَ مِنَّا سِتَّةٌ قَدْ نَسِيتُ أَسْمَاءَهُمْ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ احْتَبَسَهُ فِي حَاجَتِهِ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ التَّكْبِيرَ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ صَلاتُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تَذْهَبْ صَلاتُكُمُ ارْتَحِلُوا مِنْ هَذَا الْمَكَانِ"، فَارْتَحَلَ فَسَارَ قَرِيبًا، ثُمَّ نزل فَصَلَّى، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَتَمَّ صَلاتَكُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلانًا لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا، فَقَالَ لَهُ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، قَالَ:" فَتَيَمَّمِ الصَّعِيدَ وَصَلِّهِ فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ"، وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا فِي طَلَبِ الْمَاءِ، وَمَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا إِدَاوَةٌ مثل أُذُنَيِ الأَرْنَبِ بَيْنَ جِلْدِهِ وَثَوْبِهِ، إِذَا عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرْنَاهُ بِالْمَاءِ، فَانْطَلَقَ حَتَّى ارْتَفَعَ عَلَيْهِ النَّهَارُ وَلَمْ يَجِدْ مَاءً فَإِذَا شَخْصٌ، قَالَ عَلِيٌّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَكَانَكُمْ حَتَّى نَنْظُرَ مَا هَذَا، قَالَ: فَإِذَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ، فَقِيلَ لَهَا: يَا أَمَةَ اللَّهِ أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: لا مَاءَ وَاللَّهِ لَكُمُ اسْتَقَيْتُ أَمْسِ، فَسِرْتُ نَهَارِي وَلَيْلِي جَمِيعًا وَقَدْ أَصْبَحْنَا إِلَى هَذِهِ السَّاعَةِ، قَالُوا لَهَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَجْنُونُ قُرَيْشٍ؟ قَالُوا: إِنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، وَلَكِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا هَؤُلاءِ دَعُونِي فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتُ صِبْيَةً لِي صِغَارًا فِي غَنِيمَةٍ قَدْ خَشِيتُ أَنْ لا أُدْرِكَهُمْ حَتَّى يَمُوتَ بَعْضُهُمْ مِنَ الْعَطَشِ، فَلَمْ يُمَلِّكُوهَا مِنْ نَفْسِهَا شَيْئًا حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، فَأَمَرَ بِالْبَعِيرِ فَأُنِيخَ ثُمَّ حَلَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلاهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ عَظِيمٍ فَمَلأَهُ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى الْجُنُبِ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ"، قَالُوا: أَيْمُ اللَّهِ مَا تَرَكْنَا مِنْ إِدَاوَةٍ وَلا قِرْبَةِ مَاءٍ وَلا إِنَاءٍ إِلا مَلأَهُ مِنَ الْمَاءِ وَهِيَ تَنْظُرُ ثُمَّ شَدَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلاهَا وَبَعَثَ بِالْبَعِيرِ، وَقَالَ:" يَا هَذِهِ دُونَكِ مَاءَكِ فَوَاللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنِ اللَّهِ زَادَ فِيهِ مَا نَقَصَ مِنْ مَائِكِ قَطْرَةٌ"، وَدَعَا لَهَا بِكِسَاءٍ فَبُسِطَ، ثُمَّ قَالَ لَنَا:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَأْتِ بِهِ"، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِخُلُقِ النَّعْلِ، وَبِخُلُقِ الثَّوْبِ، وَالْقَبْضَةِ مِنَ الشَّعِيرِ، وَالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ، وَالْفَلْقَةِ مِنَ الْخُبْزِ حَتَّى جَمَعَ لَهَا ذَلِكَ، ثُمَّ أَوْكَاهُ لَهَا فَسَأَلَهَا عَنْ قَوْمِهَا فَأَخْبَرَتْهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ حَتَّى أَتَتْ قَوْمَهَا، قَالُوا: مَا حَبَسَكِ؟ قَالَتْ: أَخَذَنِي مَجْنُونُ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ إِنَّهُ لأَحَدُ الرَّجُلَيْنِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ أَسْحَرَ مَا بَيْنَ هَذِهِ، وَهَذِهِ تَعْنِي السَّمَاءَ وَالأَرْضَ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، قَالَ: فَجَعَلَ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُغِيرُ عَلَى مَنْ حَوْلَهُمْ وَهُمْ آمِنُونَ، قَالَ: فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لِقَوْمِهَا: أَيْ قَوْمٍ وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا الرَّجُلَ إِلا قَدْ شَكَرَ لَكُمْ مَا أَخَذَ مِنْ مَائِكِمْ أَلا تَرَوْنَ يُغَارُ عَلَى مَنْ حَوْلَكُمْ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ لا يُغَارُ عَلَيْكُمْ هَلْ لَكُمْ فِي خَيْرٍ؟ قَالُوا: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنُسْلِمُ، قَالَ: فَجَاءَتْ تَسُوقُ بِثَلاثِينَ أَهْلَ بَيْتٍ حَتَّى بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمُوا .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر سفر کرتے رہے۔ پھر ہم نے رات کے وقت پڑاؤ کیا اور سو گئے، تو ہم سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے۔ ہم میں سے چھ لوگ بیدار ہوئے، ان کے نام میں بھول گیا ہوں۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنے سے منع کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ہو سکتا ہے اللہ نے کسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں ٹھہرایا ہو۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے رہے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔ لوگوں نے عرض کی: ہماری نماز قضا ہو گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری نماز رخصت نہیں ہوئی۔ تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔ پھر ہم لوگ روانہ ہوئے اور سفر کرتے رہے۔ ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور نماز ادا کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری نماز مکمل ہو گئی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں شخص نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا: تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟ اس نے عرض کیا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مٹی سے تیمم کر کے نماز ادا کر لو، جب تم پانی پر قادر ہو جاؤ گے تو غسل کر لینا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کی تلاش میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ ہم میں سے ہر ایک شخص کے پاس خرگوش کے کانوں جتنا برتن تھا، جو اس کے کپڑوں اور جسم کے درمیان تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس محسوس ہوئی تو ہم تیزی سے آگے بڑھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا۔ ایک شخص نظر آیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ یہاں ٹھہرو، میں دیکھتا ہوں کہ یہ کون ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت تھی جس کے پاس پانی کے دو مشکیزے تھے۔ اس سے دریافت کیا گیا: اے اللہ کی بندی! یہاں پانی کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: یہاں کوئی پانی نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں گزشتہ کل پانی کی تلاش میں نکلی تھی۔ میں نے پورا دن اور پوری رات سفر کیا ہے، اب یہ وقت آ گیا ہے۔ تو ان لوگوں نے کہا: تم اللہ کے رسول کے پاس چلو۔ تو اس نے کہا: اللہ کا رسول کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ کے رسول ہیں۔ اس نے کہا: جو مجنون ہیں جو قریش سے تعلق رکھتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ مجنون نہیں ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس عورت نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں اپنے چھوٹے بچوں اور بکریوں کے پاس چھوڑ کر آئی ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ ان میں سے کوئی ایک پیاس کی وجہ سے مر نہ جائے۔ لیکن ان لوگوں نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس کا اونٹ بٹھا دیا گیا۔ پھر اس کے مشکیزے کو اوپر کی طرف سے کھولا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا برتن منگوایا، اسے پانی سے بھر دیا، وہ جنبی شخص کو دیا گیا۔ آپ نے فرمایا: تم جاؤ اور غسل کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ہم نے وہاں موجود ہر برتن اور ہر مشکیزہ کو پانی سے بھر لیا۔ وہ عورت دیکھتی رہی۔ پھر اس کے مشکیزے کا منہ اوپر کر کے بند کر دیا گیا، پھر اونٹ کو کھڑا کر دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورت! یہ تمہارا پانی ہے۔ اللہ کی قسم! اللہ نے اس میں اضافہ کیا ہے، تمہارے پانی میں سے ایک قطرہ بھی کم نہیں ہوا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس عورت کے لیے ایک چادر لائی گئی۔ آپ نے فرمایا: جس شخص کے پاس جو بھی چیز ہو وہ لائے۔ کوئی شخص جوتا لے کر آیا، کوئی شخص کپڑا لے کر آیا، کوئی شخص مٹھی بھر جو لے آیا، کوئی شخص مٹھی بھر گندم لے آیا، یہاں تک کہ وہ سب کچھ اس کے لیے لایا گیا اور اسے باندھ کر دے دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کی قوم کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ عورت چلی گئی اور اپنی قوم میں چلی گئی۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: تم کہاں رہ گئی تھی؟ اس نے بتایا: مجھے قریش سے تعلق رکھنے والے مجنون نے پکڑ لیا تھا۔ اللہ کی قسم! اس میں ایک چیز ہے، یا تو وہ اس اور اس کے درمیان جادوگر ہے۔ اس عورت کی مراد آسمان اور زمین تھی: یا وہ واقعی ہی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے فوجی دستے اس کی قوم کے آس پاس لوگوں پر حملے کرتے رہے، لیکن وہ محفوظ لوگ رہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اے قوم! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال ہے کہ یہ صاحب تمہارے شکریہ کے طور پر ایسا کر رہے ہیں، جو انہوں نے تمہارا پانی استعمال کیا تھا۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تمہارے آس پاس کے لوگوں پر حملہ کیا جا رہا ہے اور تم لوگ محفوظ ہو، تم پر حملہ نہیں کیا جاتا؟ کیا تم لوگ بھلائی چاہتے ہو؟ لوگوں نے دریافت کیا: وہ کیا ہے؟ اس عورت نے کہا: ہم اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ تیس خاندانوں کو لے کر آئی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کر لی اور اسلام قبول کر لیا۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 772]
ترقیم العلمیہ: 761
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، 1302، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 771، 772، 773، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5964، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»

الحكم على الحديث: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥عباد بن راشد
Newعباد بن راشد ← عمران بن حصين الأزدي
مقبول
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← عباد بن راشد
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥علي بن مسلم الطوسي، أبو الحسن
Newعلي بن مسلم الطوسي ← أبو داود الطيالسي
ثقة
👤←👥الحسين بن إسماعيل المحاملي، أبو عبد الله
Newالحسين بن إسماعيل المحاملي ← علي بن مسلم الطوسي
ثقة