الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابٌ فِي غَسْلِ الْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَتَطْوِيلِ الْغُرَّةِ وَتَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ وَالدَّلْكِ
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 656
عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وَهُوَ يُمِرُّ الْوَضُوءَ إِلَى إِبْطِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! مَا هَذَا الْوُضُوءُ؟ قَالَ: يَا بَنِي فَرُّوخَ! أَنْتُمْ هَا هُنَا؟ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَا هُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ إِلَى حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ) )
ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے اور انہوں نے وضو کا پانی بغل تک پہنچا دیا، میں نے کہا: ”اے ابو ہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے بنو فروخ! تم لوگ یہاں ہو؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں نے یہ وضو نہیں کرنا تھا، میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ’زیور اور زینت مؤمن کی اس جگہ تک پہنچے گی، جہاں تک وضو پہنچتا ہے۔‘“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8827»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا امتیازی وصف بیان کیا گیا ہے، جو اِن کو قیامت کے میدان میں نصیب ہو گا اور اسی وصف کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کی شناخت کریں گے۔ ہر فرد کونماز اور وضو کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ وہ اس سعادت سے محروم نہ ہو جائے۔ فروخ، حضرت ابراہیم ؑکا ایک بیٹا تھا، یہ عجموں کا باپ ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓکی اس بات کا مقصد یہ تھا کہ جس آدمی کی اقتدا کی جاتی ہو، اس کو چاہیے کہ کم فہم لوگوں کے سامنے رخصتوں اور تشدّد والے اعمال پر عمل نہ کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ رخصت کو مستقل حکم سمجھ کر ضرورت کے بغیر اس کو اپنا لیں اور تشدّد والے عمل کو واجب سمجھ لیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 250
Al-Fath al-Rabbani Hadith 656 in Urdu