علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ یعنی آپ آڈیو ، ویڈیو بھیجیں ہم ان شاء اللہ ٹیکسٹ/ پی ڈی ایف میں بنا دیں گے۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
14. باب العمة والخالة
پھوپھی اور خالہ کے وراثتی احکام
ترقیم دار السلفیہ: 168 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1345
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُفَيٍّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّ رَجُلا انْقَعَرَ عَنْ مَالٍ لَهُ، فَأَتَتِ ابْنَةُ أُخْتِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ الْمِيرَاثَ، فَقَالَ:" لا شَيْءَ لَكِ، اللَّهُمَّ مَنْ مَنَعْتَ مَمْنُوعٌ، اللَّهُمَّ مَنْ مَنَعْتَ مَمْنُوعٌ" .
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جو اپنے ماموں کے مال پر دعویٰ کر رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے کچھ نہیں، اے اللہ! جسے تو نے روکا، وہ محروم ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب ولاية العصبة/حدیث: 1345]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: سند کی تحقیق:، ● إسماعيل بن عياش:، ثقہ ہے لیکن صرف اہلِ شام سے روایت میں معتبر، یہاں وہ غیر شامی (یمنی) راوی: نضر بن شفي سے روایت کر رہے ہیں، اس لیے ان کی روایت ضعیف مانی جاتی ہے جب غیر شامی سے ہو، ● النضر بن شفي:، مجہول الحال راوی، کوئی صریح توثیق موجود نہیں، ● عمران بن سليم:، بہت غیر معروف راوی ہے، بعض محققین نے کہا ہے: "مجهول" یا "مبہم تابعی"، ◄ لہٰذا یہ روایت سنداً ضعیف ہے — اس میں دو مجہول راوی اور إسماعيل بن عياش کی غیر شامی روایت ہے
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن سليم الكلاعي | مقبول | |
👤←👥النضر بن شفي النضر بن شفي ← عمران بن سليم الكلاعي | مجهول | |
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة إسماعيل بن عياش العنسي ← النضر بن شفي | صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم |
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 1345 in Urdu
النضر بن شفي ← عمران بن سليم الكلاعي