🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
171. باب الرجل يدعي ولدا من زنا
باب: اُس مرد کا بیان جو زنا سے پیدا ہونے والے بچے کی نسبت اپنی طرف کرے۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2128 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3305
نا هُشَيْمٌ ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ لَهُ وَلَدًا مِنْ أُمِّ فُلانٍ مِنْ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ إِنَّهُ لا عَهْرَ فِي الإِسْلامِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الأَثْلَبُ" .
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: زنا میں بچہ نہیں ہوتا، بچہ بستر والے کا ہے اور زناکار کو پتھر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3305]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: درایۃً متن حدیث صحیح ہے (بخاری و مسلم سے مؤید)، لہٰذا قابل استدلال ہے۔
فائدہ: اس حدیث کی بنیاد پر فقہی قاعدہ:
«الولد للفراش»
بچہ اسی کا ہے جس کے بستر (نکاح) پر پیدا ہوا، چاہے حمل میں شک ہو

«وللعاهر الأثلَب»
زانی کے لیے نسب کا کوئی حق نہیں، صرف شرعی سزا یا ذلت

✅ نتیجہ:
یہ روایت فقہی، عدالتی، اور معاشرتی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔
اس سے اسلام کا نکاح کی حرمت، نسب کی پاکیزگی، اور زنا کے رد کا تصور مکمل واضح ہوتا ہے

الحكم على الحديث: مرسل

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد اللهثقة
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان
Newعبد الملك بن ميسرة الفزازى ← عمرو بن شعيب القرشي
ثقة
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي