صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
187. باب غسل الجمعة - ذكر الخبر الدال على أن الأمر بالاغتسال للجمعة في الأخبار التي ذكرناها قبل إنما هو أمر ندب وإرشاد لعلة معلومة
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے پہلے ذکر کردہ اخبار میں جمعہ کے غسل کا حکم ترغیب اور ہدایت کا ہے، کسی معلوم وجہ کی بنا پر
حدیث نمبر: 1230
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ عُمَرُ: أَيُّ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ قَالَ: إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ، فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ، فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، قَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا، وَقَدْ عَلَمْتَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ!" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ صَحِيحٌ عَلَى نَفِي إِيجَابِ الْغُسْلِ لِلْجُمُعَةِ عَلَى مَنْ يَشْهَدُهَا، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَخْطُبُ إِذْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ مَا زَادَ عَلَى أَنْ تَوَضَّأَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَأْمُرْهُ عُمَرُ وَلا أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَةِ بِالرُّجُوعِ وَالاغْتِسَالِ لِلْجُمُعَةِ، ثُمَّ الْعَوْدِ إِلَيْهَا، فَفِي إِجْمَاعِهِمْ عَلَى مَا وَصَفْنَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الأَمْرَ كَانَ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالاغْتِسَالِ لِلْجُمُعَةِ أَمْرُ نَدْبٍ لا حَتْمٍ.
سائم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب اندر آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بلند آواز میں دریافت کیا یہ کون سا وقت ہے۔ انہوں نے جواب دیا: میں آج مصروف تھا میں اپنے گھر اس وقت گیا جب میں نے اذان کی آواز سنی پھر میں نے وضو کے علاوہ کچھ نہیں کیا (یعنی فورا یہاں آ گیا ہوں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: (صرف) وضو کرنا بھی (غلطی) ہے۔ آپ یہ بات جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ) کے دن (غسل) کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی صحیح دلیل موجود ہے کہ جو شخص جمعہ میں شرکت کیلئے آتا ہے اس پر غسل کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا، انہوں نے صرف وضو کیا ہے اور وہ مسجد میں آ گئے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور کسی صحابی نے بھی انہیں جمعہ کیلئے غسل کر کے آنے کو نہیں کہا: تو صحابہ اکرام کا اس بات پر اجماع کر لینا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اس بات کا واضح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعے کیلئے غسل کرنے کا حکم دینا استحباب کے طور پر ہے لازمی طور پر نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1230]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1227»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (367): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي