صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
31. باب مواقيت الصلاة - ذكر البيان بأن الصلاة لوقتها من أحب الأعمال إلى الله جل وعلا
نماز کے اوقات کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ وقت پر نماز ادا کرنا اللہ جل وعلا کو سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال میں سے ہے
حدیث نمبر: 1477
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، وحفص بن عمر الحوضي ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ:" الصَّلاةُ لِوَقْتِهَا"، قَالَ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" بِرُّ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" ، قَالَ: خَصَّنِي بِهِنَّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ كَانَ مِنَ الْمُخَضْرَمِينَ، وَالرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِي الْكُفْرِ سِتُّونَ سَنَةً، وَفِي الإِسْلامِ سِتُّونَ سَنَةً، يُدْعَى مَخَضْرَمِيًّا.
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں: اس گھر کے مالک نے ہمیں حدیث بیان کی ہے۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کون سا عملاللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرنا انہوں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا انہوں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صرف انہی چیزوں کے بارے میں بتایا تھا اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ مزید جواب عنایت کرتے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعمر شیبانی مخضرمین میں سے ہیں جب کسی شخص نے زمانہ کفر میں ساٹھ سال گزارے ہوں اور زمانہ اسلام میں ساٹھ سال گزارے ہوں، تو اسے مخضرمی کہا: جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1475»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو عمرو الشيباني: هو سعد بن إياس.
الرواة الحديث:
سعد بن إياس الشيباني ← عبد الله بن مسعود