صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
76. باب مواقيت الصلاة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المغرب له وقت واحد دون الوقتين المعلومين
نماز کے اوقات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے، نہ کہ دو معلوم اوقات
حدیث نمبر: 1525
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ، فَقَالَ: صَلِّ مَعَنْا هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ، فَلَمْا زَالَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ، قَالَ: وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ بِغَلَسٍ، قَالَ: فَلَمْا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ لِلظُّهْرِ، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ لِلَمْغْرِبِ قَبْلَ مَغِيبِ الشَّفَقِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ؟ قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقْتُ صَلاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ" .
سلیمان بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ہمارے ساتھ ان دو اوقات میں نماز ادا کرو۔“ پس جب سورج ڈھل گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی جبکہ سورج ابھی بلند، چمک دار اور روشن تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہو جانے کے بعد مغرب کی نماز ادا کی، شفق غروب ہو جانے کے بعد عشاء کی نماز ادا کی اور فجر کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے میں ادا کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی اور (اسے) ٹھنڈے وقت میں ادا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت عصر کے لیے اقامت اس وقت کہی جب سورج چمک دار تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو اس سے ذرا تاخیر سے ادا کیا تھا جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گزشتہ روز ادا کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہونے والی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عشاء کی نماز کے لیے اقامت ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کے لیے اقامت روشنی ہو جانے پر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: ”میں ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے، جو تم نے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1525]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 613، وابن الجارود فى "المنتقى"، 169، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 323، 324، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 518، والترمذي فى (جامعه) برقم: 152، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 667، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1033، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23421» «رقم طبعة با وزير 1523»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م انظر (1490). تنبيه!! رقم (1490) = (1492) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وهو مكرر (1492).
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1525 in Urdu
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي