الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
406. باب صفة الصلاة - ذكر الاستحباب للمصلي أن يرفع يديه إلى منكبيه عند قيامه من الركعتين في صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا استحباب کہ نمازی اپنی دو رکعتوں سے کھڑے ہونے پر اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھائے
حدیث نمبر: 1876
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا لَهُ: وَلِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً. قَالَ: بَلَى. قَالُوا: فَاعْرِضْ. قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَرْكَعُ، وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلا يَرْفَعُهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَعُودَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، ثُمَّ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ قَعْدَةُ السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ" . قَالُوا جَمِيعًا: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي.
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں جن میں سے ایک سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ یہ بیان کرتے ہوئے سنا سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ ان حضرات نے ان سے کہا: وہ کیوں؟ اللہ کی قسم! آپ نہ تو ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں اور نہ ہم سے زیادہ پرانے صحابی ہیں۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ان حضرات نے کہا: پھر آپ پیش کیجئے، تو سیدنا ابوحمید نے بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کر لیتے تھے۔ آپ اپنی ہر ہڈی کو اس کی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں رکھتے تھے، پھر آپ تلاوت کرتے تھے۔ پھر آپ تکبیر کہتے تھے، پھر آپ رفع یدین کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے تھے اور رکوع میں چلے جاتے تھے۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھتے تھے، پھر آپ اعتدال کی حالت میں رہتے تھے۔ آپ اپنے سر کو نہ تو جھکاتے تھے اور نہ ہی اٹھاتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور «سمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ» پڑھتے تھے آپ دونوں ہاتھ کندھوں تک اعتدال کی حالت میں بلند کرتے تھے، پھر اللہ اکبر کہتے تھے، پھر آپ زمین کی طرف جھک جاتے تھے اور دونوں بازو پہلو سے دور رکھتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے جب آپ سجدے میں جاتے تھے، تو آپ اپنے پاؤں کی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے، پھر آپ دوبارہ سجدے میں چلے جاتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور اللہ اکبر کہتے تھے۔ آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا کر اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آ جاتی تھی، پھر آپ دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرتے تھے۔ جب آپ دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے جس طرح آپ نے نماز کے آغاز میں کیا تھا، پھر آپ بقیہ نماز اسی طریقے سے ادا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب اس سجدے کے بعد والا قعدہ آتا جس میں سلام پھیرنا ہوتا تو آپ اپنی بائیں ٹانگ کو پیچھے کر لیتے تھے اور بائیں پہلو کے بل تورک کے طور پر تشریف فرما ہو جاتے تھے۔ ان حضرات (یعنی دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1876]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1873»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (1862). تنبيه!! رقم (1862) = (1865) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وهو مكرر (1867).
الرواة الحديث:
الحارث بن ربعي السلمي ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي