صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
8. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الزجر عن السكوت للمرء عن الحق إذا رأى المنكر أو عرفه ما لم يلق بنفسه إلى التهلكة-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ انسان کو منکر دیکھنے یا جاننے پر حق کے بارے میں خاموشی سے منع کیا گیا ہے، جب تک کہ وہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالے۔
حدیث نمبر: 278
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ رَآهُ أَوْ عَرَفَه" ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلاءُ حَتَّى قَصَرْنَا وَإِنَّا لَنَبْلُغُ فِي الشَّرِّ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لوگوں کا خوف کسی بھی شخص کو حق بات کہنے سے منع نہ کرے، جب آدمی اسے دیکھے یا یہ بات جان لے کہ (یہاں حق بات کہنا بنتا ہے)“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم پر مسلسل آزمائشیں وارد ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ ہم سے کوتاہی ہوئی۔ اب ہم بری صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 278]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مكرر (266).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري