صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
113. صدقة التطوع - ذكر الخبر الدال على أن المتصدقين في الدنيا هم الأفضلون في العقبى
نفلی صدقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا میں صدقہ دینے والے آخرت میں افضل ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 3326
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَسَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَرَّةِ الْمَدِينَةِ مُمْسِيًا، فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا"، يَعْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" لا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ"، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ جَاءَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ ضِرَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ، فَجَلَسْتُ حَتَّى جَاءَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ آتِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ لِي، وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَنِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَقُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ فَقَالَ:" وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ" ، قَالَ جَرِيرٌ : قَالَ الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ شَرْطَانِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّ مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ تَفَضَّلُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ بِالْعَفُوِ عَنْ جِنَايَاتِهِ الَّتِي لَهُ فِي دَارِ الدُّنِيَا، لأَنَّ الْمَرْءَ لا يَخْلُو مِنَ ارْتِكَابِ بَعْضِ مَا حُظِرَ عَلَيْهِ فِي الدُّنِيَا، أُضْمِرَ فِي الْخَبَرِ هَذَا الشَّرْطُ، وَالشَّرْطُ الثَّانِي: مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، يُرِيدُ بَعْدَ تَعْذِيبِهِ إِيَّاهُ فِي النَّارِ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهَا، إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلْ عَلَيْهِ بِالْعَفُوِ قَبْلَ ذَلِكَ، لِئَلا يَبْقَى فِي النَّارِ مَعَ مَنْ أَشْرَكَ بِهِ فِي الدُّنِيَا، فَهَذَانِ الشَّرْطَانِ مُضْمَرَانِ فِي هَذَا الْخَبَرِ، لا أَنَّ كُلَّ مَنْ مَاتَ وَلا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ لا مَحَالَةَ.
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: اللہ کے نام کی گواہی دے کر میں یہ بات بیان کرتا ہوں میں نے ربذہ میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ایک مرتبہ میں شام کے وقت مدینہ منورہ کے پتھریلے علاقے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا ہمارے سامنے احد پہاڑ آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور پھر اس سے تیسرے دن شام کے وقت میرے پاس ان میں سے ایک بھی دینار باقی ہو، ماسوائے اس دینار کے، جسے میں نے قرض کی واپسی کے لیے سنبھال کے رکھا ہو میں اس سونے کے بارے میں اللہ کے بندوں کے بارے میں یہی کہتا رہوں گا کہ اسے اتنا دے دو اسے اتنا دے دو یعنی اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے دائیں اپنے بائیں خرچ کرتا رہوں گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن (اجر و ثواب کے حوالے سے) کمی رکھنے والے ہوں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: تم اپنی جگہ پر رہنا جب تک میں تمہارے پاس آتا نہیں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی پھیل جانے کے بعد تشریف لائے میں نے ایک آواز سنی، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو، میں روانہ ہونے لگا پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یاد آئی، تو میں اپنی جگہ بیٹھا رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی تشریف لے آئے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے پہلے یہ ارادہ کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہوں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مجھے یاد آ گیا میں نے ایک آواز سنی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے وہ میرے پاس آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا میں نے دریافت کیا: اگرچہ وہ زنا کرے یا وہ چوری کرے؟ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ زنا کرے یا چوری کرے۔ جریر نامی راوی کہتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں دو وضاحتیں پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: جو شخص ایسی حالت میں مر جاتا ہے کہ وہاللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اگراللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اس کے ان گناہوں کو معاف کر دے جن کا ارتکاب اس نے دنیا میں کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے: آدمی اس دنیا میں کسی نہ کسی ممنوعہ چیز کا ارتکاب کر ہی لیتا ہے، تو اس روایت میں یہ شرط پوشیدہ ہو گی اور دوسری شرط یہ ہے: کوئی شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہے وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے۔اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں کچھ عرصہ کے لیے عذاب دے گا۔ ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ اس وقت ہو گا جباللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اسے معاف نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے تاکہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں جو دنیا میں کسی کو اس کا شریک ٹھہراتے تھے تو یہ دونوں شرطیں اس روایت میں پوشیدہ ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جو ایسی حالت میں انتقال کر جائے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ لامحالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3326]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3316»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (826): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← عويمر بن مالك الأنصاري