علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
83. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر العلة التي من أجلها أمر بهذا الأمر
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس حکم کی علت کا ذکر۔
حدیث نمبر: 353
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا"، قَالَتْ: وَكَانَ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَامَ عَلَيْهِ، وَإِنْ قَلَّ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً دَامَ عَلَيْهَا" قَالَ: يَقُولُ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ سورة المعارج آية 23، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهَيَّأُ لِلْمُخَاطَبِ أَنْ يَعْرِفَ صِحَّةَ مَا خُوطِبَ بِهِ، فِي الْقَصْدِ عَلَى الْحَقِيقَةِ، إِلا بِهَذِهِ الأَلْفَاظِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اتنا عمل اختیار کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہاللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک تم سے منقطع نہیں ہوتا جب تک تم تھکاوٹ کا شکار نہیں ہو جاتے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدگی سے سر انجام دیں، اگرچہ وہ تھوڑا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی (نفل) نماز ادا کرتے تھے، تو آپ اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اور وہ لوگ اپنی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”بے شکاللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو۔“ یہ لوگوں کے محاور ے کے الفاظ میں سے ہیں، کیونکہ مخاطب شخص کو صرف اسی حوالے سے مفہوم منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مراد اس کا حقیقی مفہوم نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 353]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”بے شکاللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو۔“ یہ لوگوں کے محاور ے کے الفاظ میں سے ہیں، کیونکہ مخاطب شخص کو صرف اسی حوالے سے مفہوم منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مراد اس کا حقیقی مفہوم نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 353]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 354»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1238): ق دون قول أبي سلمة.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، عبد الرحمن بن إبراهيم هو الدمشقي، الملقب بدحيم من رجال البخاري، ومن فوقه من رجال الشيخين. وقد صرح الوليد بالسماع من الأوزاعي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 353 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق