صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
82. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الأمر للمرء بإتيان الطاعات على الرفق من غير ترك حظ النفس فيها
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - آدمی کو نرمی کے ساتھ طاعات بجا لانے اور اس میں اپنی جان کا حصہ نہ چھوڑنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 352
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ يَعْنِي نَفْسَهُ: لأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ؟" فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّكَ لا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَنَمْ وَقُمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ"، قَالَ: فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَلأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلاثَةَ الأَيَّامِ الَّتِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ" يُرِيدُ بِهِ" لَكَ" لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ ضَعْفَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَمَّا وَطَّنَ نَفْسَهُ عَلَيْهِ مِنَ الطَّاعَاتِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پتہ چلی کہ میں نے یہ کہا: ہے: میں جب تک زندہ رہا، رات بھر نفل پڑھتا رہوں گا اور دن بھر روزہ رکھتا رہوں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے یہ بات کہی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے استطاعت نہیں رکھو گے، تم نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو (رات کے وقت) سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو، نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے، تو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کی مانند ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن روزہ نہ رکھا کرو۔ یہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے اور یہ روزہ رکھنے کا سب سے مناسب طریقہ ہے۔ میں نے عرض کی: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے زیادہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن روزہ رکھنے کی جو بات ارشاد فرمائی تھی، اگر میں اسے قبول کر لیتا، تو یہ میرے نزدیک اپنے اہل خانہ اور مال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس سے زیادہ فضیلت اور کسی چیز میں نہیں ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد یہ ہے: تمہارے لیے ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس بات کا پتہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو جن نیکیوں کا پابند کر رہے ہیں وہ ان کے حوالے سے کمزور ہو جائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 352]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس سے زیادہ فضیلت اور کسی چیز میں نہیں ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد یہ ہے: تمہارے لیے ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس بات کا پتہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو جن نیکیوں کا پابند کر رہے ہیں وہ ان کے حوالے سے کمزور ہو جائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 352]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 353»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 88): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم؛ حرملة بن يحيى من رجال مسلم، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عمرو السهمي