صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
246. باب الاعتكاف وليلة القدر - ذكر ما يستحب للمرء أن يطلب ليلة القدر في اعتكافه في الوتر في العشر الأواخر
اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے اعتکاف میں آخری عشرے کے طاق راتوں میں لیلة القدر کو تلاش کرے
حدیث نمبر: 3674
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّذِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينَ يَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ لَمْ يَرْجِعْ إِلَى مَسْكَنِهِ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ حَتَّى كَانَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي يَرْجِعُ فِيهَا، فَخَطَبَ النَّاسَ، وَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ، وَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلِيَلْبَثْ فِي مُعْتَكَفِهِ، وَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، فَأُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: فَنَظَرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُمْتَلِئٌ طِينًا وَمَاءً .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ جب بیس راتیں گزر گئی اور اکیسویں رات آئی، تو آپ اپنی رہائش گاہ کی طرف واپس تشریف نہیں لے گئے جس نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ واپس چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں مقیم تھے، جس میں آپ اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ جب وہ رات آئی جس میں آپ نے واپس جاتا تھا، تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو اللہ کو منظور تھا انہیں حکم دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میں اس عشرے میں اعتکاف کیا کرتا تھا پھر مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اس آخری عشرے میں بھی اعتکاف کروں اور جس شخص نے میرے ہمراہ اعتکاف کیا ہے وہ اپنی اعتکاف گاہ میں ٹھہرا رہے مجھے یہ رات دکھائی گئی، لیکن پھر مجھے بھلا دی گئی، لیکن تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو میں نے خود کو (اس رات میں) پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے اکیسویں رات کو دیکھا کہ مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ سے پانی ٹپکنے لگا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ کے چہرہ مبارک پر پانی اور مٹی لگا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3674]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3666»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري